کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
حدیث نمبر: 6427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَيَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ وَفِي لَفْظٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6427
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600، 3601، ابن ماجه: 2366 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6899»
حدیث نمبر: 6428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ خائن اور حد والے آدمی نے توبہ کر لی ہے اور ان پر توبہ کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تو ان شاء اللہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی، بہرحال اس مسئلہ میں اختلاف موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6940»