کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مدعی کے پاس گواہ نہ یو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6418
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشَّرَائِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا۔ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس سے قسم اور گواہ کے متعلق پوچھا کیایہ طلاق اور غلام کی آزادی میں بھی کافی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،یہ تو صرف خرید و فروخت جیسے معاملات میں ہے۔
حدیث نمبر: 6419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔