حدیث نمبر: 6411
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ خُصُومَةٌ، فَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرُو ابْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَقَالَ سَعِيدٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: هَا هُنَا، فَقَالَ: لَا، قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مصعب بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے بھائی سیدنا عمرو بن زبیر رحمہ اللہ کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ، سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ سیدنا عمرو بن زبیر رحمہ اللہ چارپائی پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: یہاں تشریف لے آؤ، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قضا کا طریقہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اپنائیں گے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
وضاحت:
فوائد: … جب حاکم کسی کو اپنے سامنے بٹھا کر بات سنے گا تو حقیقت تک رسائی حاصل کرنا زیادہ ممکن ہو جائے گا، بہرحال یہ روایت ضعیف ہے، لیکن عام طور پر جب صحابہ کرام f آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے جرائم کا اعتراف کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔