حدیث نمبر: 6397
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا حُبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ حَتَّى يُوقِفَهُ عَلَى جَهَنَّمَ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ، أَلْقَاهُ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي أَرْبَعِينَ خَرِيفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک یا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالی یہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 6398
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔
حدیث نمبر: 6399
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ، وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ، وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیں اور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔
حدیث نمبر: 6400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمُقْسِطِينَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ بِمَا أَقْسَطُوا فِي الدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میں انصاف کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6401
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6402
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میں فیصلہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَجُرْ، فَاِذَا جَارَ تَخَلّٰی عَنْہُ وَلَزِمَہُ الشَّیْطَانُ۔)) … ’’بیشک اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہیںکرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو چمٹ جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی: ۱۳۳۰، ابن ماجہ: ۲۳۱۲)
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔