حدیث نمبر: 6378
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولا ء ، آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وَلاء وہ رشتہ ٔ وراثت ہے،جس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔ آزاد کنندہ اور اس کے عصبہ بنفسہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، جب اصحاب الفروض سے مال بچ جائے یا اصحاب الفروض سرے سے موجود نہ ہوں تو عصبہ نسبی وارث بنتے ہیں،اگر عصبہ نسبی نہ ہوں تو عصبہ سببی ترکہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
حدیث نمبر: 6379
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6380
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَلْمَى بِنْتِ حَمْزَةَ أَنَّ مَوْلَاهَا مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَةً، فَوَرَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَوَرَّثَ يَعْلَى النِّصْفَ، وَكَانَ ابْنَ سَلْمَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ سلمیٰ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا اور اس نے ایک بیٹی وارث چھوڑی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف مال کا اس کی بیٹی کو اور نصف مال کا یعلی رضی اللہ عنہ کو وارث بنایا۔ یہ یعلی رضی اللہ عنہ ، سلمی رضی اللہ عنہا کا بیٹا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ایسی صورت میں مسئلہ ایسے ہی ہو گا۔
حدیث نمبر: 6381
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ)) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اولاد کے عوض والد سے قصاص نہ لیا جائے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ولاء کاوارث ہوگا، وہی مال کا وارث بنے گا۔
حدیث نمبر: 6382
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ)) فَقَضَى لَنَا بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا پس منظر یہ ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ام وائل سے شادی کی، اس سے تین بچے پیدا ہوئے، پھر ام وائل وفات پاگئی، اس کے بیٹے اس کے وارث تھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان کو لے کر شام چلے گئے، جہاں وہ طاعون کی وجہ سے فوت ہوگئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ان کے عصبہ کی حیثیت سے ان کے وارث ہوئے، جب اس متوفی خاتون کے قبیلہ والے دعویٰ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت پہ پہنچے تو تب انھوں نے اس حدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا اور عصبہ کی حیثیت سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو مستحق قرار دیا۔