کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی¤اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
حدیث نمبر: 6374
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ وَتَرِثُهُ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کی وارث بنے گی اور اس کی ماں اس اولاد کی، لیکن جس نے اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی، اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے اس کی اولاد کو زنا کی اولاد کہا، اس کو بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6374
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7028»
حدیث نمبر: 6375
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا دو روایات ضعیف ہیں، درج ذیل دو احادیث ملاحظہ ہوں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV جَعَلَ مِیْرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ لِأُمِّہٖوَلِوَرَثَتِھَامِنْبَعْدِھَا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والے بیٹے کی میراث اس کی ماں کے لیے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کے لیے مقرر فرمائی۔ (ابوداود: ۲۹۰۷) لعان والے ایک قصے کے بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وَکَانَ ابْنُھَا یُنْسَبُ اِلٰی اُمِّہٖ،فَجَرَتِالسُّنَّۃُ اَنَّہٗیَرِثُھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔ … اس لعان والی عورت کے بیٹے کو صرف اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، پس یہ سنت جاری ہو گئی کہ ایسا بیٹا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۹، صحیح مسلم: ۱۴۹۲) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس بچے پر میاں بیوی میں لعان ہو جائے، وہ صرف اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس کی میراث کا سلسلہ بھی صرف ماں سے ہو گا، زنا کے بچے کا بھییہی حکم ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6375
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عمرو بن رؤبة، وفيه بقية بن الوليد مدلس تدليس التسوية۔ أخرجه ابوداود: 2906، والترمذي: 2115، وابن ماجه: 2742 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16107»
حدیث نمبر: 6376
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … باپ اور بیٹا نسب کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، جبکہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا، نسب کے لیے نکاحِ شرعی ضروری ہے، لہذا زنا کے نتیجے میں جنم لینے والی اولاد باپ کی طرف نسبت سے محروم ہو جائے گی اور ان کا باپ سے میراث کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا، ایسی اولاد کی نسبت اور میراث کا سلسلہ صرف ان کی ماں سے ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6376
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2264 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3416»