حدیث نمبر: 6368
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعَةً فَإِلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، أَفُكُّ عَنْهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، يَفُكُّ عَنْهُ وَيَرِثُ مَالَهُ)) وَفِي لَفْظٍ: ((وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَرِثُهُ وَأَعْقِلُ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ میت کے بعض جرائم کی وجہ سے جو ادائیگیاں اس کے ذمے تھیں اور عصبہ نے جن کو ادا کرنا ہوتا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادا کریں گے۔ فوائد: … ذوی الارحام وہ رشتہ دار ہیں جو نہ اصحاب الفروض ہوں اور نہ عصبہ، مثلا: ماموں، خالہ، پھوپھی، نواسی وغیرہ۔ جب میت کے رشتہ داروں میں اصحاب الفروض، عصبہ نسبی اور عصبہ سببی میں سے کوئی بھی نہ ہو تو اس کا ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم کیا جائے گا، ان کی کیفیت ِ توریث میں بڑا اختلاف ہے، اس فن سے متعلقہ کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 6369
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ إِلَى الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ إِلَى غُلامٍ فَقَتَلَهُ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ أَصْلٌ وَكَانَ فِي حَجْرِ خَالٍ لَهُ، فَكَتَبَ فِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔