کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 6359
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَتْهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لَهَا السُّدُسَ فَقَالَ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ مَنْ يَعْلَمُ مَعَكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … عربی زبان میں دادی اور نانی دونوںکو ’’جَدَّۃ‘‘ کہتے ہیں، علم میراث میں’’جَدَّۃ‘‘کی دو قسمیں ہیں: (۱)جدہ صحیحہ اور (۲) جدہ فاسدہ، صرف اول الذکر یعنی جدہ صحیحہ وارث بن سکتی ہے۔
جدہ صحیحہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی
جدہ فاسدہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «الحديث صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 2894، والترمذي: 2101، وابن ماجه: 2724 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18143»
حدیث نمبر: 6360
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے : سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدّہ کے لیے چھٹے حصے کا فیصلہ کیا، پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے چھٹا حصہ نافذ کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18141»
حدیث نمبر: 6361
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بِالسُّدُسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادی اور نانی دونوں کو وراثت میں سے چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم کر کے دینے کا فیصلہ فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ جدہ صحیحہ کا حصہ چھٹا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6361
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي بن الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة۔ أخرجه الحاكم: 4/ 340، والبيھقي: 6/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»