کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 6358
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو کہ (ترکہ تقسیم کیا جائے گا)میت کی طرف سے کی گئی وصیت یا قرض کے بعد جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کو نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ (جب عینی اور علاتی بہن بھائی جمع ہو جائیں تو) حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے، نہ کہ علاتی، آدمی اپنے عینی بھائی کا وارث بنے گا، نہ کہ علاتی۔
وضاحت:
فوائد: … عینی اور علاتی بھائی عصبہ ہیں اور عصبہ کے وارث بننے کے دو قوانین ہیں، ایک درجۂ قرابت اور دوسرا قوت قرابت، سب سے پہلے درجۂ قرابت کو دیکھا جائے گا، ہر قریبی دور والے کو محجوب کر دے گا، اگر دو یا زائد فریقوں کا درجۂ قرابت ایک ہو تو قوتِ قرابت کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اگر سب افراد قوت میں برابر ہوئے تو سب کو وارث بنایا جائے گا، بصورتِ دیگر ہر قوی القرابہ، ضعیف القرابہ کو محجوب کر دے گا۔ عینی بھائی قوی القرابہ ہیں اور علاتی ضعیف القرابہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6358
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 2095، 2122، وابن ماجه: 2739 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1222»