حدیث نمبر: 6334
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
وضاحت:
فوائد: … یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔
حدیث نمبر: 6335
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَيْرِ أَنْ تَقِيَ مَالَكَ أَوْ قَالَ تَفْدِيَ مَالَكَ بِمَالِهِ شَكَّ حُسَيْنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرپرست اپنے یتیم کے مال کے اضافے اور اصلاح کے لیے جو محنت کر رہا ہو، وہ اس مال سے اس کا عوض لے سکتا ہے، لیکنیہ اجرت معروف طریقے کے مطابق ہونی چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ایسا سرپرست معاشرے یا خاندان کے عدل و انصاف اور فہم و فراست والے دو افراد سے اپنی اجرت کا تعین کروا لے، تاکہ اس کا نفس مختلف حیل و حجت کرنے سے محفوظ ہو جائے، باقی ہدایات حدیث میں ہی بیان کر دی گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 6336
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر نے کہا: مجاہد، عطائ، شعبی، ابن ابی لیلی، قتادہ اور کئی سلف و خلف نے ان دو آیتوں کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۳۷۵)
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔