کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6324
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ بِشَطْرِ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ بِثُلُثِ مَالِي قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَتَخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَاتَ بِمَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہوا یوں کہ میں بیمار ہو گیا اور ایسے لگا کہ موت قریب آ گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ مال والا ہوں اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث بننے والی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تیسرے حصے کی ٹھیک ہے اور یہ بھی زیادہ ہے، اے سعد! اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں ایسی فقیری کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں، اے سعد! اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، اس کا اجر پاؤ گے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو، اس میں بھی اجر پاؤ گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں (اس بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو باقی رہ بھی جائے اور اللہ تعالی کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے جو عمل بھی کرے گا تو اس کے ذریعے تیرے درجے بلند ہوں گے، ممکن ہے کہ تو زندہ رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور بعض کو نقصان۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت مکمل فرما دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا، لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر اس لیے ترس آتا تھا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس بیماری سے شفایاب ہوکر اتنی طویل زندگی پائی کہ وہ عراق وغیرہ کی فتح میں شریک ہوئے، ان کی وجہ سے کئی مسلمانوں کو دین و دنیا میں فائدہ ہوا اور کئی کافروں کو اسی قسم کا نقصان ہوا، اس وقت تو ان کیصرف ایک بیٹی تھی، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد سے نوازا حافظ ابن حجرk نے ان کے نو بیٹوں اور بارہ بیٹیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئلہ یہ سمجھ آیا کہ آدمی کو ایک تہائی مال سے زائد وصیت کرنے کا اختیار نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہائی کی مقدار بھی زیادہ ہے، اس سے بھی کم وصیت کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 56، 3936، 5668، ومسلم: 1628 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1524»
حدیث نمبر: 6325
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ أَتَانِي يَعُودُنِي قَالَ فَقَالَ لِي أَوْصَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالَ لَا تَفْعَلْ قُلْتُ إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6325
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1501»
حدیث نمبر: 6326
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے رشتہ داروں کے حقوق کا اندازہ کر لینا چاہیے، بعض بے اولاد سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کے بارے میں اس وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس سرمائے کو فلاں فلاں آدمیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ مقدار اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیں، کچھ مقدار کے بارے میں وصیت کر دیں اور باقی ترکہ کو اللہ تعالی کے حکم پر راضی ہو کر وارثوں میں تقسیم ہونے دیں، اس مقام پر ان کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے، وگرنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آدمی اللہ تعالی کے احکام کو ناپسند کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6326
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2034»
حدیث نمبر: 6327
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6327
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28030»
حدیث نمبر: 6328
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِيقِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … قرعہ کا ذکر اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20106»
حدیث نمبر: 6329
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَقَبَةٍ لَهُ فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا صَنَعَ قَالَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مرنے والے کی جو وصیت اور شرط شرعی احکام کے مخالف ہو گی، اس کو مردود اور بے اثر سمجھا جائے گا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میت کے فیصلے کو ردّ کردیا اور ایک تہائی کی گنجائش کے مطابق دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور چار کو ورثاء میں تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20253»
حدیث نمبر: 6330
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ بات بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر مجھے اس کے دفن سے پہلے پتہ چلتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیتا۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 409، والطحاوي في ’’شرح المشكل‘‘: 740 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23280»
حدیث نمبر: 6331
عَنْ ذَيَّالِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ حِذْيَمٍ جَدِّي أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحِذْيَمٍ اجْمَعْ لِي بَنِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَقَالَ حِذْيَمٌ يَا أَبَتِ إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ إِنَّمَا نُقِرُّ بِهَذَا عِنْدَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ قَالَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ حِذْيَمٌ رَضِينَا فَارْتَفَعَ حِذْيَمٌ وَحَنِيفَةُ وَحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ وَهُوَ رَدِيفٌ لِحِذْيَمٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حِذْيَمٍ فَقَالَ هَذَا وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ حِذْيَمٍ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَفْجَأَنِي الْمَوْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُوصِيَ وَإِنِّي قُلْتُ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ لَا لَا لَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ وَإِلَّا فَعَشْرٌ وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ وَإِلَّا فَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُونَ فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ قَالَ فَوَدَّعُوهُ وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا وَهُوَ يَضْرِبُ جَمَلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ قَالَ حَنْظَلَةُ فَدَنَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَأَنَّ ذَا أَصْغَرَهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوِ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعُ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہماکہتے ہیں میرے دادا سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے بیٹے! میرے تمام بیٹوں کو ایک جگہ جمع کرو، میں انہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں اکٹھا کیا، پس سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے پہلی وصیت یہ کرتا ہوں کہ جو یتیم میری کفالت میں ہے، میں اسے سو اونٹ دیتا ہوں، ہم جاہلیت میں اس عطیہ کو مطیبہ کہتے تھے۔ سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابا جان! میرے بھائی کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارا باپ زندہ ہے ہم اس چیز پر برقار رہیں گے، لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو ہم یہ عطیہ واپس لے لیں گے۔ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو پھر میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس پر راضی ہو گئے، پس سیدنا حذیم، سیدنا حنیفہ، سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہم اور سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھنے والا ایک غلام روانہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابو حذیم! کس لئے آئے ہو؟ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: یہ حذیم آنے کا سبب بنا ہے، تفصیل یہ ہے کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب موت اچانک بھی آ سکتی ہے، اس لئے میں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: میری پہلی وصیت یہ ہے کہ میں اپنے زیر کفالت بچے کو سو اونٹ دیتا ہوں، ہم دورِ جاہلیت میں اس عطیے کو مطیَّبہ کہتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہو گئے اور غصے کے آثار چہرے پر دکھائے دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں ، نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، پانچ اونٹ صدقہ کر دے یا دس، نہیں تو پندرہ یا پھر بیس، وگرنہ پچیس، اگر مزید گنجائش نکالنی ہو تو تیس، وگرنہ پینتیس اور اگر بہت زیادہ کرنا ہو تو چالیس۔ پھر انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا، یتیم بچے کے پاس ایک لاٹھی تھی، وہ اس کے ذریعے اونٹ کو ضرب لگاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یتیم کی لاٹھی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بٹھایا اور کہا: میرے بعض بیٹے داڑھی والے ہیں اور اس کے بغیر ہیں اور یہ سب سے چھوٹا ہے، اس کے لئے دعا تو فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے یا تجھ میں برکت کی جائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے خود دیکھا کہ سیدنا حنظلہ کے پاس ایسے انسان لائے جاتے، جن کے چہر پر ورم ہوتا، اس طرح ایسے حیوان لائے جاتے، جن کے تھن سوجے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے ہاتھ پر تھوکتے اور بسم اللہ کہتے اوراپنا ہاتھ اپنے سر کے اس مقام پر رکھتے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا تھا اور پھر وہ ہاتھ اس ورم والی جگہ پر پھیر دیتے۔ ذیال کہتے ہیں: پس وہ ورم ختم ہو جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی ورثاء کے حق کو مقدم رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6331
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3477، 3500، وفي ’’الاوسط‘‘: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20941»