کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا¤اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6318
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
حدیث نمبر: 6319
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثًا إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَمَا بِتُّ لَيْلَةً مُنْذُ سَمِعْتُهَا إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَكْتُوبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔
حدیث نمبر: 6320
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہل صدقہ کر لینا چاہیے، اسی طرح خیر و بھلائی والی وصیت اس وقت سے پہلے تیار کر لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 6321
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ ٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۳، ۱۴)
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال وصیت کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ ظلم ہو گی اور لواحقین پر فرض ہو گا کہ وہ اس پر عمل نہ کریں، مثلا: کسی ایک وارث کے حق میں وصیت کرنا، ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا، قطع رحمی کی وصیت کرنا، یہ سب ظلم کی قسمیں ہیں۔
حدیث نمبر: 6322
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقُلْتُ إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ أَضَعُهُ أَفِي الْفُقَرَاءِ أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ أَوْ فِي الْمَسَاكِينِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَفِي لَفْظٍ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروں کو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … موت کے قریبیعنی موت کی علامتیں ظاہر ہونے سے قبل بھی صدقہ کرنا درست ہے، البتہ پسندیدہ قانون وہی ہے جو حدیث نمبر (۶۳۲۰)میں گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 6323
عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى وَلَدَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ فَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا سَوَّدُوا أَكْبَرَهُمْ خَلَفُوا أَبَاهُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ موت کے بعد سے متعلقہ امور کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں، خاندان کے بڑے لوگ یقینا بارعب ہوتے ہیں، ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن بڑے لوگوں کو کبھی بھی درج ذیل حدیث سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔