کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: عمریٰ کی تفسیر کااور اس چیز کا بیان کہ کس کے حق میں اس کا فیصلہ ہو گا
حدیث نمبر: 6307
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ فَأَمَّا إِذَا قَالَ فَهِيَ لَكَ فَإِنَّمَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ عمریٰ جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نافذ قرار دیا تھا، اس کی صورت یہ ہے کہ دینے والا آدمی کہے: یہ چیز تیرے لیے اور تیرے ورثاء کے لئے ہے۔ جب وہ صرف اتنا کہے کہ یہ چیز تیرے لئے ہے، تو وہ چیز اصل مالک کی طرف لوٹ آئے گی۔
وضاحت:
فوائد: … کیا ورثاء کی قید لگانا عمرییا رقبی کے لیے ضروری ہے؟ جواب کے لیے اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔
حدیث نمبر: 6308
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ ایک انصاری نے اپنی ماں کو اس کی زندگی بھر کے لیے کھجوروں کا ایک باغ دیا، جب اس کی ماں کی وفات ہوئی تو اس انصاری کے دوسرے بھائی آکر کہنے لگے کہ ہم سب اس باغ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس وہ جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس باغ کو ان کے مابین بطورِ میراث تقسیم کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے مطابق صرف متعلقہ آدمی کی عمر کی قید لگانے سے عمری نافذ ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 6309
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ طَارِقٌ قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ عَلَى قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے طارق نامی ایک امیر نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا تھا، اس کا یہ فیصلہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کردہ حدیث کی روشنی میں تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ طارق بن عمرو مکی اموی تھا، جو عبد الملک بن مروان کی جانب سے مدینہ کا گورنر تھا۔
حدیث نمبر: 6310
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْعُمْرَى وَفِي لَفْظٍ قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔
حدیث نمبر: 6311
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا جُرَيْجٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّمَا هِيَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ لِمَنْ أُعْطَاهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَأَنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمریٰ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص کوئی چیز بطورِ عمری کسی دوسرے شخص کو اور اس کی نسل کو دیتے ہوئے کہے: میں نے یہ چیز تجھے اور تیری نسل کو دے دی ہے، جب تک تم میں سے کوئی باقی ہو، تو یہ چیز اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی جائے گی اور یہ پہلے مالک کی طرف اس لیے نہیں لوٹے گی کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے کہ جس میں میراث کے قوانین لاگو ہو چکے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عمری اوررقبی کے نفاذ کے لیے نسل کی قید لگانا ضروری نہیں ہے، یہ ایک زائد چیز ہے، جس سے مزید تاکید پیدا ہو جاتی ہے اور یہاں اتفاقی طور پر ذکر کی گئی ہے، وگرنہ صرف عمر کی قید لگانے سے عمری اور رقبی کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔