حدیث نمبر: 6302
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقْبَى وَقَالَ مَنْ أُرْقِبَ فَهُوَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رقبی سے منع کیا اور فرمایا: جو چیز جس کو بطور رقبیٰ دی جائے گی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نہی حرمت کے لیے نہیں، بلکہ ارشاد اور رہنمائی کے لیے ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی مصلحت نہیں ہے کہ تم اپنے گھراور مال بطورِ رقبی دے دو، ہاں اگر اسی طرح ہی دینے ہیں تو جان لو کہ بطورِ رقبی دی ہوئی چیز واپس نہیں آئے گی اور مستقل طور پر تمہاری ملکیت سے نکل جائے گی۔
حدیث نمبر: 6303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ نہیں ہے اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … عمری سے نہی کی بھی وہی تفصیل ہے جو سابق حدیث کے فوائد میں بیان ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 6304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَالرُّقْبَى هِيَ أَيْضًا لِلْآخِرِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنِّي وَمِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ اور رقبیٰ نہیں ہے،اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ یا رقبیٰ دی گئی تو وہ اس کی موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی۔ ابن بکر نے اپنی حدیث میں کہا: عطاء نے کہا کہ رقبیٰ بھی اسی کا ہو جائے گا، عبد الرزاق نے کہا: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی اگر میں تجھ سے پہلے مرجاؤں تو یہ چیز تیری ہے اور اگر تومجھ سے پہلے مرجائے تو یہ میری ہے)۔
حدیث نمبر: 6305
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمَرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مال روک کر رکھو اور کسی کو نہ دو، جس کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: اپنے مالوں کو خراب نہ کرو، جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ اسی کی اور اس کی نسل کی ہو جائے گی، وہ زندہ رہے یا مر جائے۔
حدیث نمبر: 6306
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ لَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی گئی، تم کوئی چیز بطور رقبیٰ نہ دو، جس نے کوئی چیز بطور رقبیٰ دے دی تو میراث کی روٹین میں آ جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس امید میں عمری اور رقبی کے طور پر چیزیں دو کہ وہ بالآخر واپس آ جائیں گی، جبکہ وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جائیں گی، جس کو دی جائیں گی، اس لیے جو آدمی رقبییا عمری کے طور پر کوئی چیز دینا چاہے تواس کو علم ہونا چاہیے کہ یہ چیز واپس نہیں آئے گی، سو وہ محتاط ہو جائے گا اور اگر کوئی آدمی عمری اور رقبی کے احکام کا علم ہونے کے بعد کوئی چیز اس طرح دینا چاہے تو وہ بیشک دے۔