کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمری اور رقبی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6298
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمَنْ أَعْمَرَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى فَهِيَ لِمَنْ أَرْقَبَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً ثُمَّ عَادَ فِيهَا فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عمریٰ دیا، پس وہ اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا، جس کو دیا جائے گا، اسی طرح جس نے رقبی دیا، وہ بھی اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا، جس کو دیا جائے گا، اور جس نے کوئی چیز ہبہ کی اور پھر اس کو واپس لے لے، وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنی قے کوچاٹ لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2251»
حدیث نمبر: 6299
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا أَوْ جَائِزَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو عمریٰ دیا گیا، وہ اسی کے اہل کی میراث بن جائے گا یا اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی جس کو کوئی چیز بطورِ عمری دی جائے گی، وہ اسی کی ہو جائے گی اور اس کے بعد اس کے وارثوں میں تقسیم کر دی جائے گی، دینے والے کا حق ختم ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9541»
حدیث نمبر: 6300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ ان کے لیے نافذ ہو جانے والا ہے، جن کو دیا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14304»
حدیث نمبر: 6301
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً حَيَاتَهَا وَأُمُّهَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ان کی زندگی بھر کے لئے باغ دے دیا تھا، اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور اس نے میرے سوا کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ بھی ثابت ہو گیا ہے اور تیرا باغ بھی تجھے وراثت میں واپس مل گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو چیز کسی کو بطورِ رقبییا عمری دی جاتی ہے، وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6731»