کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لئے بری مثال نہیں ہے، اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6290
عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمراور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ عطیہ دے کر اس کو واپس لے لے، ما سوائے والد کے کہ جو وہ اپنے بچے کو بطورِ عطیہ دیتا ہے، اس آدمی کی مثال جو عطیہ دیتا ہے اور پھر اس کو واپس کر لیتا ہے، کتے کی طرح ہے کہ جو کوئی چیز کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والداپنے بچے کو بطورِ عطیہ دی ہوئی چیز اس سے واپس لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 6291
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَالَّذِي يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے اور پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہے اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اسے چاٹنا شروع کر دیتاہے۔
حدیث نمبر: 6292
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْئَ إِلَّا حَرَامًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز کو لوٹانے والا اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ امام قتادہ نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ قے حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو قے کی حرمت یا نجاست پر دلالت کرتی ہو، دراصل سلیم الفطرت انسان کی طبیعت کو دیکھ کر بات کہی جا رہی ہے۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ قے کی حرمت و نجاست کی کوئی دلیل نہیں، لیکن تحفہ دے کر واپس لینا حرام ہے جیسا کہ حدیث۶۲۹۰ سے واضح ہے۔
حدیث نمبر: 6293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا، البتہ والد اپنی اولاد سے واپس لے سکتاہے۔ ہبہ کوواپس لینے والے کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرنے کے بعد اس کو چاٹ لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6294
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الَّذِي يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا صدقہ واپس لے لیتا ہے، اس کی مثال اس کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6295
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام طائوس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم بچے ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے کہ اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے، اور ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں کوئی مثال بیان کی ہے، یہاں تک کہ ایک دن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6296
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنا عطیہ لوٹا لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ عطیے میں دی ہوئی چیز واپس نہیں لی جا سکتی، کیونکہ اس کی مثال بری ہے اور حدیث نمبر (۶۲۸۹) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ۔)) … ’’ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے۔‘‘ البتہ اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث قابل توجہ ہے۔
حدیث نمبر: 6297
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوقِفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِيَرُدَّ عَلَيْهِ مَا وَهَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹتا ہے، ہبہ کرنے والا جب واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کو کھڑا کر کے اس سے واپسی کی وجہ پوچھی جائے اور پھر اس کووہ چیز واپس کر دی جائے، جو اس نے ہبہ کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی مثال بیان کر کے ہبہ کرنے والے کو اس کمینے پن سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں: (۱) جب کوئی آدمی ہبہ کی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے ایسا کرنے کا سبب دریافت کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ اس کا مقصود یہ ہو کہ ہبہ وصول کرنے والا اسے بھی متبادل دے گا، تو پھر ممکن ہو گا کہ وہ اسے متبادل دے دے اور وہ اپنا ہبہ واپس نہ لے اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں اس کو اس کی ہبہ کی ہوئی چیز واپس کر دی جائے۔
(۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)
(۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)