کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6282
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا مِسْوَرُ اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّهُ قَسَمَ أَقْبِيَةً فَانْطَلَقْنَا فَقَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَخَلْتُ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَخَرَجَ إِلَيَّ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا قَالَ خَبَأْتُ لَكَ هَذَا يَا مَخْرَمَةُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ چوغے بطور ہدیہ پیش کیے گئے، ان کے بٹن سونے کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چوغے اپنے صحابہ کے درمیان تقسیم کر دیے، سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مسور !ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوغے تقسیم کر رہے ہیں، پس ہم چلے گئے، جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا: اندر جاؤ اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلاؤ، پس میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا لایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اورایک چوغہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے مخرمہ! یہ میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہ دے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6282
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2599، 5800، ومسلم: 1058 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19135»
حدیث نمبر: 6283
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى الْأُكَيْدَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً قَالَ هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (روم کے بادشاہ) اکیدر نے جمی ہوئی بوندی کا ایک گھڑا بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تحفہ بھیجا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور لوگوں کے پاس سے گزرے تو ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دیتے گئے، ان میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کوبھی ایک ٹکڑا دیاتھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ لوٹے اور ان کو ایک اور ٹکڑا دیا تو انھوں نے کہا: آپ مجھے ایک دفعہ تو دے چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یہ عبد اللہ کی بیٹیوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6283
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه مختصرا ابن ابي شيبة: 12/ 468، والبزار: 1936 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12249»
حدیث نمبر: 6284
عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ قَالَتْ وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روٹینیہی تھی کہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موصول ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو وقت کی مناسبت کے مطابق رشتہ داروں، حاضرین اور دوسرے صحابہ کرام اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي بن عقبة لم نقف لھا علي ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد في تعيينھا۔ أخرجه الحاكم: 2/ 188، والبيھقي: 6/ 26، وابن حبان: 5114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27819»
حدیث نمبر: 6285
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا سَيَّارٌ وَأَخْبرَنَا مُغِيرَةُ أَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا قَالَ فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ هَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَقَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے ہبہ دیا، ایک راوی کے بیان کے مطابق وہ غلام تھا۔میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے والد سے کہا:تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اوراس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤ، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی اورکہا: میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری اولاد ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سب کو وہ چیز دی ہے، جو نعمان کو دی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے، جو تیری بیوی کے دباؤ کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، جاؤ اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ۔ مغیرہ نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیری ساری اولاد نیکی اور مہربانی میں تیرے ساتھ برابر برابر پیش آئیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور کسی اور کو گواہ بنا لو، بیشک ان کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو ان کے مابین انصاف اور برابری کرے، جیسا کہ ان پر تیرایہ حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب والدین اپنی اولاد کو عطیہ دیں گے تو بیٹی اور بیٹے کو برابر برابر دیں گے، یہاں میراث کا قانون نہیں چلے گا کہ بیٹے کو دو گنا اور بیٹی کو ایک گنا دیا جائے، کیونکہ ’’وَلَد‘‘ کا اطلاق بیٹے اور بیٹی دونوں پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2650، ومسلم: 1623 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18568»
حدیث نمبر: 6286
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي فَوَهَبَهَا لِي فَقَالَتْ لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَنِي أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ زَاوَلَتْنِي عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لَهُ وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ قَالَ يَا بَشِيرُ أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لِهَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ أَكُلَّ وَلَدِكَ قَدْ نَحَلْتَ قَالَ لَا قَالَ فَارْدُدْهُ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ فَارْجِعْهَا وَفِي لَفْظٍ آخَرَ قَالَ فَسَوِّ بَيْنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے میرے لئے کچھ ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کر دی، ماں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤ، پس میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا،جبکہ میں ایک لڑکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی ماں بنت رواحہ نے مجھے اس کو ہبہ دینے پر آمادہ کیا اور میں نے اسے ہبہ کر دیا، اب اس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بشیر! اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی تونے اس قسم کی چیز ہبہ کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سب بچوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس سے بھی واپس کر لے۔ ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کے درمیان برابری کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18553»
حدیث نمبر: 6287
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ وَفِي لَفْظٍ قَارِبُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ يَعْنِي سَوُّوا بَيْنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے درمیان برابری کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18643»
حدیث نمبر: 6288
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو غلام کا عطیہ دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤ۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میری بیوہ عمرہ بنت رواحہ کامطالبہ ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنے غلام کا عطیہ دوں، نیز وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے اور بھائی بھی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سب کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو جائز نہیں ہے اور میں صرف حق پر گواہ بنتاہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین اپنی اولاد کو عطیہ تو دے سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کو دیں اور برابری اور مساوات کا بھی خیال رکھیں، اگر ایسے نہ کیا تو یہ ظلم ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14546»