کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
حدیث نمبر: 6258
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان پر مہربانی کرنے کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ ہدیہ دینے والے کے ہدیے اور میزبان کی دعوت کی مقدار اور معیار کو سامنے نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے آدمی کا خلوص قبول کر کے اس کے سامنے خوشی کا اظہار کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ بھی دیا جائے۔ اس دور میں مال و زر اور ناز ونخرے والے لوگوں کے لیے اس قسم کی احادیث پر عمل کرنا خاصا دشوار کام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دعوت کرنے والے اور ان کو تحفے تحائف دینے والے لوگ ان کے معیار کے ہوں، اگر ان کی دعوت کی جائے تو پرتکلف انداز ہونا چاہیے اور اگر ان کو تحفہ دیا جائے تو وہ بہت قیمتی چیز ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبیوں کے سردار کے طرزِ حیات سے غفلت نہ برتیں اور جو چیز ان کی طبع کے مطابق نہ ہو، شریعت کی روشنی میں اس کو اچھے انداز میں قبول کریں۔
حدیث نمبر: 6259
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شَوَيْتُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا فَقَالَ ائْتِ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِهِ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ قَالَ فَقَبِلَهُ مِنِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خرگوش بھاگا اور لوگ اس کے پیچھے دوڑے، میں اس کی طرف پہلا سبقت لے جانے والا آدمی تھا، پس میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے حکم دیا، پس اس کو ذبح کیا گیا، پھر میں نے اس کو بھونا، پھر انھوں نے اس کا نصف پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ، پس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور کہا: بیشک سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے خرگوش کا یہ پچھلا حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے قبول کیا۔
حدیث نمبر: 6260
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ فَسَعَى عَلَيْهَا الْغِلْمَانُ حَتَّى لَغِبُوا قَالَ فَأَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا ثُمَّ بَعَثَ مَعِيَ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس کہتے ہیں: ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو بھگایا، لڑکے اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن وہ تھک گئے اور میں نے اس کو پکڑ لیا اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا، انھوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا سرین مجھے دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول کیا۔
حدیث نمبر: 6261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن مجھے ہدیہ دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قبول کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول کرلیتے تھے اور صدقہ قبول نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 6263
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6264
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6265
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا اور وہ اس کی مالک بن جاتی تو اس کا حکم بدل جاتا تھا، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صدقہ و خیرات وصول کرنے والے لوگوں کی ضیافتیا تحفے کو قبول کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ جب صدقہ و زکوۃ لینے والا صدقہ لے لیتا ہے تو اس کا حکم بدل جاتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ میں صدقہ نہیں رہتا، دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۶۷)۔
حدیث نمبر: 6266
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَتْ عَلَيْهَا بِهَا فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَقْبَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے بکری کی ایک ٹانگ ان کو تحفے میں دی،یہ ٹانگ اس خاتون پر صدقہ کی گئی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو قبول کر لیں۔
حدیث نمبر: 6267
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کی ایک بکری ان کی طرف بھیجی اور انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انھوں نے کہا: جی نہیں، البتہ نسیبہ (یعنی ام عطیہ) نے اس بکری کا ایک حصہ بھیجا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی طرف صدقہ کی ایک بکری بھیجی، پھر اسی بکری کا گوشت بھی قبول کر لیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بکری کی مالک بنیں تو اس کا حکم بدل گیا، اب وہ صدقہ نہیں رہا، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 6268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں سوال کرتے، پس اگر کہا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھا لیتے، اور اگر کہا جاتا ہے کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم لوگ کھا لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہ کھاتے۔
حدیث نمبر: 6269
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادے سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6270
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیں ہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں ، یہ بدّو نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حدیث نمبر (۶۲۷۴) ہو، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بدوؤں کے کھانے سے ممانعت والی بات پر برقرار رکھا، اس لیے اب اس کا مفہوم بیان کرنا ضروری ہے کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے، زیادہ سے زیادہ دو وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) بعض بدو اکھڑ مزاج، سخت دل اور غلیظ الطبع ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ} … ’’اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔‘‘ (سورۂ توبہ: ۹۸) یہ بدوؤں کی مذموم قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ بعض بدّو قابل تعریف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ} … ’’اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ‘‘ (سورۂ توبہ: ۹۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6271
عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ قُلْتُ لَا إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: کیا کوئی کھانا ہے؟ میں نے کہا: جی کچھ نہیں ہے، البتہ (گوشت والی) وہ ہڈی ہے، جو ہماری لونڈی پر صدقہ کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاؤ، میرے قریب کرو، صدقہ اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔