کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6250
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیے دیا کرو، کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے کو ختم کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہدیہ، ہدیہ دینے والے آدمی کی محبت کی دلیل ہوتا ہے، اس لیے وہ ہدیہ لینے والے سے محبت وصول کرتا ہے اور اس طرح دونوں کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6251
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے دو پڑوسی ہیں، میں کس کو ہدیہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قریبی پڑوسی کو ترجیح دینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 6252
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو اس مال میں سے کچھ دے دے، جب کہ اس نے کسی سے سوال نہ کیا ہو تو وہ قبول کر لے، کیونکہ وہ ایسارزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہدیہ بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے۔
حدیث نمبر: 6253
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیریہ رزق مل جائے تو وہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں وسعت پیدا کرے، پھر اگر وہ غنی ہو تو یہ مال ایسے شخص کو دے دے، جو اس سے زیادہ محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 6254
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو بن مانگے رزق عطا کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد سے سوال کیا: اشراف سے کیا مراد ہے؟ انھو ں نے کہا: تیرا اپنے دل میں یہ کہنا کہ فلاں آدمی میری طرف کوئی چیز بھیجے گا، فلاں آدمی (مجھے کوئی چیز دے کر) میرے ساتھ صلہ رحمی کا ثبوت دے گا۔
حدیث نمبر: 6255
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خالد بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی مال مل جائے، تو وہ اس کو قبول کر لے اور اس کو ردّ نہ کرے، کیونکہ وہ ایسا رزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث میں انتہائی اہم بات یہ بیان کی گئی ہے کہ بندے کو لوگوں کے مال و زر سے مستغنی ہونا چاہیے اور کسی سے کوئی حرص اور لالچ نہیں رکھنی چاہیے، اور یہ اس وقت ہو گا جب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق محنت و مشقت سے کام کرے اور اپنی تھوڑی کمائی کے مطابق گزارہ کر کے غیرت مند زندگی گزارنے کی کوشش کرے، ایسے میں اگر اس کو کسی طرف سے کوئی چیز مل جائے تو وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
حدیث نمبر: 6256
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا أَوْ سَقَى لَبَنًا أَوْ أَهْدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی یا سونے کا عطیہ دیا،یا دودھ پلایا،یا کسی (اندھے اور راہ بھولے ہوئے) کی رہنمائی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
حدیث نمبر: 6257
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دودھ کا عطیہ دیا، چاندی کا عطیہ دیا،یا (نابینے اور راہ بھولے وغیرہ کو) راستہ کی رہنمانی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … عطیہ مستقل طور پر بھی دیا جاتا ہے اور فائدہ اٹھانے کے لیے عارضی طور پر بھی، قرض بھی عارضی عطیہ کی ایک صورت ہے۔