کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6247
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي فَضْلِ مَكَّةَ يَوْمَ فَتْحِهَا لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2434، ومسلم: 1355 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7241»
حدیث نمبر: 6248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي فَضْلِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فضائل مکہ کے موضوع پر روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی ہے، اس میں یہ الفاظ بھی تھے: اس کے شکار کو بے قرار نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اعلان کرنے والے کے لیے جائز ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ کا معاملہ دوسروں علاقوں سے مختلف ہے، اس شہر میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، حج و عمرہ یا زیارت کے ارادے سے آنے والے لوگوں میں سے کوئی کم عرصہ کے لیے ٹھہرتا ہے اور کوئی کافی ایام کے لیے قیام کرتا ہے اور قیام کرنے کا انداز بھی بڑا عجیب ہوتا ہے کہ کوئی کہیں دو دن ٹھہر رہا ہے، کوئی کہیں چار دن قیام کر رہا ہے اور کوئی تو چل پھر کر ہی دن گزار دیتا ہے، نیز کوئی بہت دور سے آیا ہوتا ہے اور کوئی قریب سے۔
جب صورتحال ایسی ہو تو اگر گری پڑی چیز کو اس کے محل پر ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہو گا، کیونکہ ممکن ہے کہ جب اس کے مالک کو پتہ چلے تو وہ اپنے مقامات کی طرف لوٹے یا وہ اس مقام میں اس چیز کو تلاش کرنے کے لیے کسی کو پیغام بھیج دے، ایسے فوراً بھی کیا جا سکتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد بھی، اس لیے اس شہر کی گری پڑی چیز کو وہیں پڑے رہنے دیا جائے، جو اعلان کرنے کی ذمہ داری اٹھائے گا، تو وہ اعلان کرتا رہے گا اور اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہو گی، جیسا کہ دوسرے علاقوں میں ایکیا تین برسوںکی حد مقرر ہے۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں گری پڑی چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہے، جو ایک سال تک اعلان کر کے اس کا مالک بننے کا ارادہ رکھتا ہو، جیسا کہ دوسرے علاقوں کا حکم ہے، بلکہ یہ چیز حلال نہیں ہو گی، مگر اس آدمی کے لیے جو ہمیشہ کے لیے اعلان کرتا رہے گا اور اس کا مالک نہیں بنے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1587، 1834، 3189، ومسلم: 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2353»
حدیث نمبر: 6249
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقْطَةِ الْحَاجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں مطلق حاجیوں کا ذکر ہے، حرم یا مکہ مکرمہ کی قید نہیں لگائی گئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا سابقہ احادیث کی روشنی میں اس حدیث کو مقید کیا جائے یا عام رہنے دیا، الفاظ کا تقاضا یہی ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس کو عام ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ چیز کے قیمتی ہونے کی صورت میں مالک واپس پلٹے یا حج و عمرہ سے واپسی پر اپنی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1724 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16167»