کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ شفعہ کا حق کب ختم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6231
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز میں شفعہ کے حق کا فیصلہ دیا ہے جس کو تقسیم نہ کیا گیا ہو، جب کسی چیز کی حد بندی ہو جاتی ہے اور راستے الگ الگ کر لیے جاتے ہیں تو شفعہ کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا قُسِمَتِ الدَّارُ وَ حُدَّتْ فَـلَا شُفْعَۃَ فِیْھَا۔)) (ابوداود: ۳۵۱۵) جب گھر تقسیم کر دیا جائے اور اس کی حدبندی کر دی جائے تو اس میں کوئی حق شفعہ نہیں۔‘‘ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف اس چیز میں شفعہ کرنے کا حق ہے، جو مختلف حصہ داروں کے مابین مشترک ہو۔ درج بالا دو ابواب میں مذکورہ احادیث درج ذیل تین مختلف امور پر مشتمل ہیں: (۱)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے۔ (۲)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق اس وقت ہے، جب ان کا راستہ ایک ہو۔ (۳)صرف حصہ دار کو شفعہ کا حق حاصل ہے۔
جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: (۱) جیسے ’’جَار‘‘ لفظ کا اطلاق پڑوسی اور ہمسائے پر ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق شریک پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ عربی لغت قاموس میں ہے، مولانا وحید الزمان قاسمی دیوبندی نے عربی اردو لغت پر مشتمل اپنی کتاب ’’القاموس الوحید‘‘ میں لفظ ’’جَار‘‘ کے نو (۹) معانی بیان کیے ہیں، ان میں سے پہلے دو معانییہ ہیں: پڑوسی، شریک کار جائداد یا تجارت میں ساجھی۔
اگر پچھلے ابواب کی احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ لفظ ’’جَار‘‘ کا معنی ساجھی اور شریک کے کیے جائیں تو سرے سے اس مسئلے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ شفعہ کا حق صرف حصہ دار کو ہے۔ اس باب میں مذکورہ احادیث کو دیکھا جائے تو یہی معنی اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
(۲) اگر ’’جَار‘‘ کے معانی پڑوسی اور ہمسائے کے ہی کیے جائیں تو اس سے مراد ہمسائے کے ساتھ خیر و بھلائی، اعانت و معاونت، ہمدردی و خیرخواہی اور ایثار و قربانی والا معاملہ ہوگا، کیونکہ ان احادیث میں شفعہ کے حق کی وضاحت تو نہیں کی گئی، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ وہ پڑوسی اپنے پڑوس کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے۔
احادیث میںیہ الفاظ پہلے ذکر ہوئے ہیں ’’الجاء احق بشفعۃ جارہ‘‘، ’’الجار احق بالدار‘‘ پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے۔ اس جگہ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’اَحَقُّ‘‘ فرمایا ہے یعنی زیادہ حقدار ہے، اس کی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ ہاں ہر لحاظ سے اس کا ضروری حق نہیں ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الشفعة / حدیث: 6231
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2214، 2257، 2496 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15363»