حدیث نمبر: 6220
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین یا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 6221
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ مُزَارَعَةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى صَاحِبِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 6222
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میں یا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شریک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کو دوسرے ایکیا ایک سے زائد حصہ داروں پر پیش کرے، اگر وہ خریدنا چاہیں تو وہی سب سے زیادہ مستحق ہوں گے اور اگر وہ نہ لینا چاہیں تو پھر وہ اپنے حصے کو کسیکے ہاتھ پر فروخت کر سکتا ہے۔