کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
حدیث نمبر: 6204
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا لَقِينَا دَاعِيَ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تَدْعُوكَ وَمَنْ مَعَكَ إِلَى طَعَامٍ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْنَا مَعَهُ فَجَلَسْنَا مَجَالِسَ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ فَفَطِنَ لَهُ الْقَوْمُ وَهُوَ يَلُوكُ لُقْمَةً لَا يُجِيزُهَا فَرَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَغَفَلُوا عَنَّا ثُمَّ ذَكَرُوا فَأَخَذُوا بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ اللُّقْمَةَ بِيَدِهِ حَتَّى تَسْقُطَ ثُمَّ أَمْسَكُوا بِأَيْدِينَا يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَفَظَهَا فَأَلْقَاهَا فَقَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ فِي نَفْسِي أَنْ أَجْمَعَكَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى طَعَامٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَلَمْ أَجِدْ شَاةً تُبَاعُ وَكَانَ عَامِرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْتَاعَ شَاةً أَمْسِ مِنَ الْبَقِيعِ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ أَنِ ابْتَغِ لِي شَاةً فِي الْبَقِيعِ فَلَمْ تُوجَدْ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ شَاةً فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ فَلَمْ يَجِدْهُ الرَّسُولُ وَوَجَدَ أَهْلَهُ فَدَفَعُوهَا إِلَى رَسُولِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنازہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب واپس پلٹے تو ایک قریشی عورت کا داعی ہمیں ملا اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) فلاں عورت آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت کھانے کے لیے بلا رہی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو لیے اور (گھر میں جا کر) اس طرح بیٹھ گئے، جیسے بچے اپنے باپوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، پھر کھانا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے پر رکھا اور لوگوں نے بھی ایسے ہی کیا، لیکن لوگ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لقمے کو چبانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے نہیں کر پا رہے، پس انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے،اور ہم سے غافل ہو گئے، پھر جب ان کو یاد آیا تو ہمارے ہاتھوں کو پکڑ لیا، پھر ہرآدمی نے اپنے لقمے پر ہاتھ مارا اور وہ زمین پر گر پڑا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا اور دیکھنے لگ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لقمے کو پھینک دیا اور فرمایا: مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایسی بکری کا گوشت ہے، جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے۔ اب کی بار داعی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر جمع کروں، پس میں نے بقیع کی طرف آدمی کو بھیجا، لیکن وہاں فروخت کے لیے کوئی بکری نہ مل سکی، اُدھر عامر بن ابی وقاص کل بقیع سے ایک بکری خرید کر لائے تھے، میں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے بھی بقیع سے کوئی بکری خرید لی جائے، لیکن کوئی بکری نہ ملی، پھر میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ تو نے جو بکری خریدی ہے، وہی میری طرف بھیج دو، لیکن وہ میرے قاصد کو نہ مل سکے، لیکن اس کے گھر والوں نے وہ بکری میرے قاصد کو دے دی،یہ تفصیل سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود میں پوری روایتیوں ہے: ایک انصاری کہتا ہے: ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھے تھے اور کھودنے والے کو فرما رہے تھے: پاؤں کی طرف سے کھلا کرو، سر والی جانب کو کھلا کرو۔‘‘جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس پلٹے تو ایک عورت کا داعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، (اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قبول کی اور اس کے گھر) تشریف لے گئے، کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں نے کھانا کھانا شروع کیا،ہمارے بڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ چبایا اور پھر فرمایا: ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر لے کر ذبح کر دی گئی ہے۔‘‘ اس عورت نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بکری خریدنے کے لیے (غلام کو) بقیع کی طرف بھیجا، لیکن وہاں سے کوئی بکری نہ ملی، پھر میںنے اپنی پڑوسی کی طرف بھیجا، اس نے ایک بکریخریدی تھی، میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ وہی بکری مجھے فروخت کردے، لیکن وہ موجود نہیں تھا، پھر میں نے اس کی بیوی کو پیغام بھیجا، اس نے یہ بکری میری طرف بھیج دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو۔‘‘
(ابوداود: ۳۳۳۲)
علامہ عظیم آبادیk نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بکری کا سودا صحیح نہیں تھا، کیونکہ عورت کے خاوند کی رضامندی شامل نہیں تھی، جو کہ اصل مالک تھا۔ یہ بیع فضولی سے ملتی جلتی ہے، جو مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، بہرحال شبہ قوی ہے اور خود ایسا کھانا کھانا پسندیدہ نہیں ہے۔ (عون المعبود۲/ ۱۵۲۳)
یہ گوشت واضح طور پر حرام نہ تھا، کیونکہ مالک کو راضی کرناممکن تھا، اس لیے اسے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمیںیہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مشکوک اورناجائز ماکولات و مشروبات سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چبایا ہوا لقمہ بھی پھینک دیا، کیونکہ اس چیز کا بھی امکان تھا کہ اصل مالک راضی ہی نہ ہو۔
(ابوداود: ۳۳۳۲)
علامہ عظیم آبادیk نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بکری کا سودا صحیح نہیں تھا، کیونکہ عورت کے خاوند کی رضامندی شامل نہیں تھی، جو کہ اصل مالک تھا۔ یہ بیع فضولی سے ملتی جلتی ہے، جو مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، بہرحال شبہ قوی ہے اور خود ایسا کھانا کھانا پسندیدہ نہیں ہے۔ (عون المعبود۲/ ۱۵۲۳)
یہ گوشت واضح طور پر حرام نہ تھا، کیونکہ مالک کو راضی کرناممکن تھا، اس لیے اسے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمیںیہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مشکوک اورناجائز ماکولات و مشروبات سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چبایا ہوا لقمہ بھی پھینک دیا، کیونکہ اس چیز کا بھی امکان تھا کہ اصل مالک راضی ہی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6205
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَمَرُّوا بِامْرَأَةٍ فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوا فَكُلُوا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْتَدِئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس عورت نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اندر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے تھے، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ کرتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقمہ لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نگل نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی!ہم اورآل بنی سعد ایک دوسرے سے بے تکلفانہ مراسم رکھتے ہیں (اور ایک دوسرے سے ناگواری محسوس نہیں کرتے) ، اس لیے ہم ان سے لیتے رہتے ہیں اور وہ ہم سے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ ایسے جانور کے حلال ہونے کی گنجائش موجود ہے، تبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو کھلا دینے کا حکم دیا تھا، لیکن عظیم المرتبت لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی چیز کھائیں، کیونکہ کسی مالک کی ملکیت سے کوئی چیز نکالنے کے لیے بے تکلفانہ مراسم کافی نہیںہے، بلکہ واضح طور پر رضامندی کا اظہار ہونا چاہیے۔