کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا واقعہ
حدیث نمبر: 6202
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَتْنِي أَرْوَى بِنْتُ أُوَيْسٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ فَقَالَتْ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَدِ انْتَقَصَ مِنْ أَرْضِي إِلَى أَرْضِهِ مَا لَيْسَ لَهُ وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْتُوهُ فَتُكَلِّمُوهُ قَالَ فَرَكِبْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلَمَّا رَآنَا قَالَ قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي جَاءَ بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَيْسَ لَهُ طُوِّقَهُ إِلَى السَّابِعَةِ مِنَ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَفِي لَفْظٍ وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَفِي لَفْظٍ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریش کے ایک وفد کے ساتھ ارویٰ بنت اویس میرے پاس آئی، اس وفد میں عبد الرحمن بن سہل بھی تھا، وہ خاتون کہنے لگی: سیدنا سعیدبن زید رضی اللہ عنہ نے میری زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں ملا لیا ہے، دراصل وہ اس کا نہیں تھا، اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے پاس جائیں اور اس بارے میں اس سے بات کریں۔ طلحہ کہتے ہیں: ہم سوار ہو کر ا س کے پاس عقیق مقام پر گئے، اسی مقام پر ان کی زمین تھی،انہوں نے ہمیں دیکھ کر کہا: میں جانتا ہوں کہ تمہاری آمد کا مقصد کیاہے، میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی کی وہ زمین ہتھیا لے گا، جو اس کی نہیں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ساتوں زمینوں تک کا طوق ڈالے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا وہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 115، وابن ماجه: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1642»
حدیث نمبر: 6203
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا مَرْوَانُ انْطَلِقُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ وَفِي لَفْظٍ مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينِهِ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مروان نے ہم سے کہا کہ جائیں اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ارویٰ بنت اویس کے درمیان صلح کروائیں۔ جب ہم سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے ارویٰ کی زمین کا حصہ مار لیا ہے؟ میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی بغیر حق کے ایک بالشت کے بقدر کسی کی زمین ہتھیا لے گا یا چرا لے گا، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا اور جس نے اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا والی بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور جس نے قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال چھین لیا، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہیں کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا حدیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اروی اپنے بیان میں سچی نہیں ہے، انھوں نے نہ اس کی زمین ہتھیائی ہے اور نہ چرائی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَاَعْمِ بَصَرَھَا وَاجْعَلْ قَبَرَھَا فِیْ دَارِھَا۔ … اے اللہ! اگر یہ اروی جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر کے اندر بنا دے۔ راوی کہتا ہے: پھر میں نے اس خاتون کو دیکھا کہ وہ اندھی ہو گئی اور دیوار کو چھو کر چلتی تھی اور کہتی تھی: سعید بن زید کی بد دعا مجھے لگ گئی ہے، ایک دن وہ اپنے گھر میں چل رہی تھی کہ گھر میں موجود کنویں میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر ٹھہرا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1649»