کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت¤یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
حدیث نمبر: 6194
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ أَوْ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ فَيَقْتَسِمَانِ فَيَسْرِقُ أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَيُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَفِي لَفْظٍ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روز قیامت اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ ہو گی کہ دو آدمیوں یا شریکوں کے درمیان زمین ساجھی ہو، پھر جب وہ اسے تقسیم کرنا چاہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کی اس زمین سے ایک ہاتھ کے برابر چرا لے، ایسے شخص کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ ایسے کرے گا تو اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6194
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في المتابعات والشواھد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3463 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23302»
حدیث نمبر: 6195
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا فَإِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ایک ہاتھ زمین ہے اور وہ یوں کہ دو آدمی ایک زمین یا گھر میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ہاتھ کے بقدر ناحق اپنے قابو میں کر لیتا ہے، جب وہ اس پر قبضہ کرتا ہے تو اسے روز قیامت تک سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6195
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23283»
حدیث نمبر: 6196
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ قَالَ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6196
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة ولانقطاعه، فابو عبد الرحمن الحبلي لم يُذكر انه روي عن ابن مسعود، وروايته عن صغار الصحابة۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3767»
حدیث نمبر: 6197
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … دھنسایا جانا یا طوق پہنایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ مختلف غاصب افراد کو مختلف سزائیں ملیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6197
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2454، 3196 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5740»
حدیث نمبر: 6198
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا، اسے قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس جگہ کی مٹی کو اٹھا کر محشر میں لائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 690 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17712»
حدیث نمبر: 6199
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالی اسے یہ تکلیف دے گا کہ وہ اس زمین کو سات زمینوں تک کھودے اور پھر اسے قیامت کے دن لوگوں کے مابین فیصلہ ہونے تک (اس مٹی) کا طوق پہنا دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6199
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الربيع بن عبد الله۔ أخرجه ابن حبان: 5164، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 692 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17714»
حدیث نمبر: 6200
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي اغْتَصَبَهَا هَذَا وَأَبُوهُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَحْلِفْهُ أَنَّهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي وَأَرْضُ وَالِدِي وَالَّذِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِيَمِينِهِ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ وَأَرْضُ وَالِدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابین یمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میں ملی ہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6200
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة۔ أخرجه ابوداود: 3244، 3622 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22192»
حدیث نمبر: 6201
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ہے کہ کسی کی معمولی مقدار میں زمین ہتھیا لینا بہت بڑا جرم ہے اور یہ گناہ بندے کی آخرت کو خسارے میں ڈال دینے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2453، ومسلم: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24857»