کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
حدیث نمبر: 6183
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 6183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 4683 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5655»
حدیث نمبر: 6184
وَلَهُ طَرِيقٌ ثَانٍ عِنْدَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ قَالَ حَمَّادٌ فَقُلْتُ لَهُ وَفِي لَفْظٍ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ لِخَيْلِهِ قَالَ لَا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایک مقام کا نام نقیع ہے، یہ ایک میل کی چوڑائی اور آٹھ میل کی لمبائی پر مشتمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 6184
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6438»
حدیث نمبر: 6185
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرتے رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 6185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2370 دون قوله: ’’حمي النقيع‘‘ لكن زاد البخاري وقال: بلغنا ان النبيV حمي النقيع، فھذه الزيادة من بلاغات الزھري، لكنھا صحيحة بالحديثين السابقين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16780»