کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6167
عَنْ أَبِي خِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں مسلمان برابر کے شریک ہیں، پانی ، گھاس اور آگ میں۔
وضاحت:
فوائد: … پانی کا مسئلہ حدیث نمبر (۵۸۲۳)میں گزر چکا ہے۔
امام خطابی نے کہا: اس سے مراد وہ گھاس ہے، جو ایسی زمین میں اگی ہو، جو کسی کی ملکیت نہیں ہے، کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس گھاس سے روکے، اور اگر وہ گھاس کسی کی ملکیت والی زمین اُگی ہو تو اس سے اجازت لینا پڑے گی۔
آگ کی اشتراکیت سے مراد جلتی ہوئی آگ سے چراغ یا مزید جلانا اور اس سے روشنی حاصل کرنا ہے، اسی طرح غیر مملوکہ زمین میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں حاصل کرنا۔
امام خطابی نے کہا: اس سے مراد وہ گھاس ہے، جو ایسی زمین میں اگی ہو، جو کسی کی ملکیت نہیں ہے، کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس گھاس سے روکے، اور اگر وہ گھاس کسی کی ملکیت والی زمین اُگی ہو تو اس سے اجازت لینا پڑے گی۔
آگ کی اشتراکیت سے مراد جلتی ہوئی آگ سے چراغ یا مزید جلانا اور اس سے روشنی حاصل کرنا ہے، اسی طرح غیر مملوکہ زمین میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں حاصل کرنا۔
حدیث نمبر: 6168
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ لَهُ أَنْ لَا تَمْنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ مَنَعَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زمین کے ایک عامل کو لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو نہ روکنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اس مقصد کے لیے زائد پانی کو روک لیاکہ گھاس کو روک لے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
حدیث نمبر: 6169
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ بَعْدَ أَنْ يُسْتَغْنَى عَنْهُ وَلَا فَضْلُ مَرْعًى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرورت پوری ہو جانے کے بعد زائد پانی کو نہ روکا جائے اور نہ زائد چراگاہ کو۔
حدیث نمبر: 6170
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکاجائے تاکہ اس سے گھاس میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔
حدیث نمبر: 6171
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ وَلَا رَهْوُ بِئْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کنویں کا زائد پانی روکا جائے اور نہ کنویں سے بہہ کر نشیبی جگہ میں اکٹھا ہو جانے والا پانی روکا جائے۔
حدیث نمبر: 6172
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحْكَامًا مُتَنَوِّعَةً مِنْهَا وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنْ لَا يُمْنَعَ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ فَضْلُ الْكَلَأِ وَقَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلوں میں سے بعض فیصلےیہ ہیں، (اس حدیث میں انھوں نے کئی فیصلے ذکر کیے، بیچ میں دو فیصلےیہ تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے مابین یہ فیصلہ کیا کہ کنویں کے زائد یا جمع شدہ پانی سے نہ روکا جائے اور دیہاتی لوگوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد گھاس سے منع کرنے کے ارادے سے زائد پانی کو نہ روکا جائے۔ اور نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک باغات ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 6173
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلزُّبَيْرِ سَرِّحِ الْمَاءَ فَأَبَى فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الْجَدْرِ قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، وہ اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ منڈیر تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! وہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ وہ آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نساء: ۶۵)
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا دو احادیث سے معلوم ہوا کہ قدرتی پانی کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہے، جس کی زمین اس کے سب سے زیادہ قریب ہو گی، لیکن جب وہ ضرورت پوری کر لے گا تو اس کو پانی روک لینے کا کوئی حق حاصل نہ ہو گا، وہ اپنے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا، پھر وہ اپنی ضرورت پوری کر لینے کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا۔ علی ہذا القیاس۔
پانی، آگ اور گھاس، یہ تین اتنی اہم ضروریات ِ زندگی ہیں کہ اگر ان میں سے زائد چیز کو روک لیا جائے یا اس کی خرید و فروخت شروع کر دی جائے تو یہ عذاب لوگوں کے لیے کسی بڑی مصیبت سے کم نہ ہو گا، اس وقت پاکستان کے جن علاقوں میں ایندھن اور پانی خریدنا پڑتا ہے، وہاں معتدل آمدنی والے آدمی کا گزارہ بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، حکومت اور علاقے کے بااثر اور سرمایہ دار لوگوں کی فکر یہ ہونی چاہیے کہ کس طرح یہ نعمتیں آسان طریقے سے لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں، مثلا دیہی علاقوں میں کچھ رقبے میں درخت وغیرہ لگا کر اس کو عام چراگاہ قرار دینا اور غریب لوگوں کو وہاں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹنے کی اجازت دے دینا، اسی طرح جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے، مختلف ذرائع اختیار کر کے وہاں پانی سپلائی کرنا۔ جن شہروں میں ایندھن کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں،یا جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، چند سرمایہ داروں کے علاوہ وہاں کے لوگ ذہنی طور پر اپنے آپ کو عجیب اذیت میں مبتلا محسوس کرتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص دور میں پانی، آگ اور گھاس کا تعین کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا منشا یہ ہے کہ آج بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، آئل اور منرل واٹرکی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ یہ تمام خزانے گورنمنٹ کی تحویل میں ہوں اور عہدیدارانِ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نعمتوں پر مشتمل نئے نئے ذخائر تلاش کر کے عوام الناس کی زندگیوں کو سہولت آمیز بنائیں، پینے والا پانی سپلائی کرنے والے شعبے کو فعال بنا کر اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔
پانی، آگ اور گھاس، یہ تین اتنی اہم ضروریات ِ زندگی ہیں کہ اگر ان میں سے زائد چیز کو روک لیا جائے یا اس کی خرید و فروخت شروع کر دی جائے تو یہ عذاب لوگوں کے لیے کسی بڑی مصیبت سے کم نہ ہو گا، اس وقت پاکستان کے جن علاقوں میں ایندھن اور پانی خریدنا پڑتا ہے، وہاں معتدل آمدنی والے آدمی کا گزارہ بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، حکومت اور علاقے کے بااثر اور سرمایہ دار لوگوں کی فکر یہ ہونی چاہیے کہ کس طرح یہ نعمتیں آسان طریقے سے لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں، مثلا دیہی علاقوں میں کچھ رقبے میں درخت وغیرہ لگا کر اس کو عام چراگاہ قرار دینا اور غریب لوگوں کو وہاں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹنے کی اجازت دے دینا، اسی طرح جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے، مختلف ذرائع اختیار کر کے وہاں پانی سپلائی کرنا۔ جن شہروں میں ایندھن کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں،یا جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، چند سرمایہ داروں کے علاوہ وہاں کے لوگ ذہنی طور پر اپنے آپ کو عجیب اذیت میں مبتلا محسوس کرتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص دور میں پانی، آگ اور گھاس کا تعین کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا منشا یہ ہے کہ آج بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، آئل اور منرل واٹرکی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ یہ تمام خزانے گورنمنٹ کی تحویل میں ہوں اور عہدیدارانِ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نعمتوں پر مشتمل نئے نئے ذخائر تلاش کر کے عوام الناس کی زندگیوں کو سہولت آمیز بنائیں، پینے والا پانی سپلائی کرنے والے شعبے کو فعال بنا کر اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔