کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 6151
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا وَجَدْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا قَالَ حَجَّاجٌ يَعْنِي الْفَرَسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف سا پیدا ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے عاریۃً ایک گھوڑا لیا، اس کو مندوب کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس آ کر فرمایا: کوئی خوف والی بات نہیں ہے۔ ہم نے اس گھوڑے کو (تیز رفتاری میں)سمندر پایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوديعة والعارية / حدیث: 6151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2627، 2862، 2968، ومسلم: 3307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13944»
حدیث نمبر: 6152
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انکا حق یہ ہے کہ ان کو پانی کے گھاٹوں پر دوہ کران کا دودھ(محتاجوں کو پلایا جائے)، ان کا برتن عاریۃً دیا جائے، جفتی کے لیے سانڈ دیا جائے، دودھ پینے کے لیے اونٹنی بطور عطیہ دی جائے اور اللہ تعالی کی راہ میں سواری کے لیے اونٹ دیئے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … مختلف احادیث میں عاریۃً چیزیں دینے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں حقوق ہوتے ہیں، اس حدیث میں صرف اونٹوں کے حقوق کا بیان ہے، ان سے دوسری چیزوں کے حقوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوديعة والعارية / حدیث: 6152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 988 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14496»