حدیث نمبر: 6147
عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخُبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا، مگر وہ جو وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کی کمائی کر لیتی ہو،پھر راوی نے اپنی انگلیوں کی مدد سے روٹی پکانے، سوتر کاتنے اور روئی دھنسنے کی طرف اشارہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … لونڈیوں کی کمائی سے مراد زنا اور بدکاری کی کمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6148
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگ والے چنو، کیونکہ یہ بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ ہر نبی بکریاں چراتارہاہے۔
حدیث نمبر: 6149
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس حال میں مبعوث کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو میں بھی جیاد میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 6150
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأُجْرَةِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جائز کاموں کی اجرت لینا درست ہے۔