کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6141
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6141
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2595،و البزار: 2320 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15620»
حدیث نمبر: 6142
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَى قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ فَقَالَ عِمْرَانُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ ایک قوم پر قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھا،جب وہ فارغ ہوا تو لوگوں سے مانگناشروع کردیا، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جوقرآن مجید کی تلاوت کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی کہ جوقرآن پاک کی تلاوت کرے گی اور پھر اس کے ذریعے سے لوگوں سے سوال کرے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20126»
حدیث نمبر: 6143
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَةَ وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ لَيْسَ لِي بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک آدمی نے مجھے بطور ہدیہ ایک کمان دی، میں نے بھی سوچا کہ یہ میرے لیے مال نہیں ہے، بلکہ میں اس کے ذریعے اللہ تعالی کے راستے میں تیر پھینکوں گا، پس میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے بدلے میں تجھے آگ کا طوق ڈالا جائے تو پھر اس کو قبول کرلے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6143
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3416، وابن ماجه: 2157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23065»
حدیث نمبر: 6144
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي قَالَ أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی تو ان کا امام ہے، ان میں سے سب سے کمزور آدمی کا خیال رکھنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا، جو اپنی اذان پر اجرت لینے والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه مسلم: 468 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16380»
حدیث نمبر: 6145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَقِّفُونَ الْقِدْحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میں اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فِیکُمْ کِتَابُ اللَّہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ تَعَلَّمُوہُ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہُ نَاسٌ وَلَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ وَیُقَوِّمُونَہُ کَمَا یُقَوَّمُ السَّہْمُ فَیَتَعَجَّلُونَ أَجْرَہُ وَلَا یَتَأَجَّلُونَہُ۔)) … ’’تمہارے اندر اللہ تعالی کی کتاب موجود ہے، کالے، سرخ اور سفید، غرضیکہ ہر کوئی اس کو سیکھ رہا ہے، تم اس کو اس زمانے کی آمد سے پہلے پہلے سیکھ لو کہ جس میں لوگ اس کی تعلیم تو حاصل کریں گے، لیکنیہ کتاب ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ ادائیگی کے لحاظ اس کے الفاظ کو اس طرح سیدھا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی طلب کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘ (ابوداود: ۸۳۱، مسند احمد: ۵/۳۳۸واللفظ لہ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6145
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، وفاء الخولاني في عداد المجھولين، وابن لھيعة سييء الحفظ۔ أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12512»
حدیث نمبر: 6146
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیں یہ ہمارے لئے حلال بھی ہیں یا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟
اس مسئلہ میں مختلف احادیث مروی ہیں، بعض یہ ہیں: (۱) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے ایک بستی کے سردار کوسورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اس کے عوض بکریوں کا ایک ریوڑ لیا۔ دوسرے صحابہ کرام نے ناپسند کیا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ اَجْرًا۔ … تو نے اللہ تعالی کی کتاب پراجرت لی۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ جواباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔)) ’’سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کاحق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ (صحیحبخاری: ۲۲۷۶)
یہ واقعہ تو خاص ہے، لیکن شارع g کے الفاظ عام ہیں، جو تعلیم القرآن کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ فقہی قاعدہ ہے کہ ’’العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص اللفظ‘‘ (لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے کا)۔ حافظ ابن حجر ؒنےکہا: واستدلمنہللجمھور فی جواز الاجرۃ علی تعلیم القرآن۔ (فتح الباری) اس حدیث سے جمہور کے لیے استدلال کیا گیاجو تعلم القرآن پر اجرت کے جواز کے قائل ہیں۔
(۲) بیوی کا حق مہر خاوند پر فرض ہے، اس کی تفصیلیوں ہے کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ تھے: (اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔) (بخاری، مسلم) … ’’جا، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تیرے پاس ہے تیرا اس عورت کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔ امام مالک نے کہا: یہ تعلیم قرآن پر اجرت ہی تھی، اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری)
لیکن درج ذ یل اور اس باب میں مذکورہ احادیث میں اجرت لینے والوں کے حق میں بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے: (۳) سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَخَذَ عَلٰی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ قَوْسًا، قَلَّدَہُ اللّٰہُ قَوْسًا مِنْ نَارِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیحہ: ۲۵۶) … جس نے قرآن مجید کی تعلیم دے کر کمان لی، اللہ تعالی قیامت کے روز اس کے گلے میں آگ کی کمان ڈالے گا۔
حدیث نمبر (۶۱۴۳) میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اس سے واضح روایت گزری، اسی قسم کی حدیث سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
مذکورہ بالا تین احادیث میں دو موضوعات بیان کئے گئے، جن میں تناقض او ر تعارض پایا جارہا ہے۔ ان میں جمع تطبیق کییہ صورت ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کا اصل مقصود دین حنیف کی نشرواشاعت اور لوگوں کی اصلاح ہو اور معلم خود بھی قرآنی احکام پر عمل پیرا ہو، اگر ایسی صورت میں لو گ کفالت کر دیں تو اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں،یہی صورت پہلے والی احادیث کا مصداق ہے۔
وعید والی احادیث کے بارے میں مختلف اہل علم کے تین نظریے پائے جاتے ہیں: (ا) … جمہور اہل علم سیدنا ابی بن کعب (اور سیدنا ابودردائ) dکی احادیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خلوص دیکھتے ہوئے ان کے لیے کمان لینا ناپسند کیا ہو۔
(ب) … اگر کسی آدمی کا قرآن کریم کی تعلیم سے اصل مقصود دنیا کی دولت اکٹھا کرنا ہو، لوگوں کی اصلاح سے اسے کوئی سروکار نہ ہو اور وہ خود قرآنی فرائض و واجبات کے وعظ سے اثر قبول نہ کرنے والا اور ان کی ادائیگی سے غافل ہو تو ایسے شخص کو وعید والی حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنایا جائے گا۔
(۳) ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جو غریب طلبہ کو قرآن مجید پڑھا کر ان سے اجرت وصول کرتاہے۔ واللہ اعلم بالصواب
اس کے بارے میں احناف کا نظریہیہ ہے کہ اجرت لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہیں اور اذان، حج، امامت اور تعلیم القرآن پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہورد المختار اور الھدایۃ) اگرچہ احناف عملی طور پر اس نظریے پر قائم نہ رہ سکے، لیکنیہ رائے اس قابل ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر توجہ کی جائے۔
اس باب میں جو رائے ہمیں اقرب الی الصواب نظر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امامت، خطابت، تعلیم القرآن اور تدریس احادیث جیسے پاکیزہ شعبوں سے متعلقہ لوگوں کا مقصد قطعی طور پر دنیوی مال و دولت کا حصول نہ ہو، بلکہ ان کی نیت اور ارادہ یہ ہو کہ وہ اسلامی تعلیمات کیتبلیغ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں،یہ شعبہ جات اس سے بالا تر ہیں کہ ان کی اجرت یا معاوضہ لیا جائے، خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں امامت، خطابت، افتائ، قضائ، جہاد اور خلافت و امارت سے متعلقہ تمام امور سر انجام دیئے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان خدمات کی اجرت میں بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے؟ نہیں، قطعاً نہیں،خلیفۂ اول کییہ تمام خدمات اسلام کی تبلیغ اور سربلندی کے لیے تھیں، ہاں جب وہ امت ِ مسلمہ کے امور میں مصروف ہو جانے کی وجہ سے اپنے دنیوی معاملات پر توجہ نہ دے سکے تو انھوں نے اپنی کفالت کے لیے بیت المال سے معمولی مقدار میں وظیفہ لیا۔ یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اور خاص طور پر اداروں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ان ائمہ، مبلغین اور مدرسین اور ان کے بیوی بچوں کی اس وجہ سے کفالت کریں کہ یہ لوگ دینِ حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں اور ان شخصیتوں کے عزت و احترام کا خیال رکھیں، کیونکہ نیلے آسمان کے نیچے سب سے زیادہ معزز لوگ یہی ہیں۔ مساجد و مدارس سے متعلقہ ائمہ و مدرسین سے انتہائی درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اجرت اور کفالت میں فرق کریں اور اپنے ارادے اور نیت میں پاکیزگی پیدا کریں، اپنے شعبے کی عظمت کو سمجھیں،یہ وہ عظیم لوگ ہیں کہ اللہ تعالی نے جن کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے، ان کی جتنی کفالت کی جا رہی ہے، اس میں گزارا کرنے کی کوشش کریں، عبادات کی روٹین کو بہتر بنائیں، اپنے اندر ذکرِ الہی کا اتنا شغف پیدا کریں کہ اس سے ان کی بھوک اور پیاس میں کمی آ جائے، کسی کی خوشامد سے مکمل گریز کریں، ہر شخص پر اور بالخصوص انتظامیہ پر ناقدانہ تبصرہ کرنے سے بچیں، اس شعبہ سے متعلقہ پہلے گزر جانے والے لوگوں کے طرزِ حیات کا مطالعہ کریں، خاص طور پر اس چیز کا کہ اگر وہ لوگ خود کفیل تھے تو انھوں نے خدمت ِ اسلام کا فریضہ کیسے سرانجام دیا اور اگر وہ محتاج تھے توانھوں نے اپنی حاجت کو دور کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا اور اپنی حاجات و ضروریات اللہ تعالی کے دربار میں پیش کریں۔
صورتِ حال یہ ہے کہ ہم لوگ دنیا اور اہل دنیا سے متأثر ہو گئے ہیں، ہم نے بڑوں اور سیاسیوں کے قریب ہونے کو اپنی عظمت کی دلیل سمجھ لیا، باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر کو خوبصورت بنانے کی طرف توجہ دی، نیک مزاج کی بجائے جسم کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو زیادہ اہمیت دی اور اپنے آپ کو تنخواہ دار طبقے کا ایسا فرد سمجھ لیا کہ جس نے ہمیشہ تنخواہ میں اضافے کی بات کییا اس کے تھوڑا ہونے کا شکوہ کیا۔ اس میدان والوں کا سب سے اہم مسئلہ نفس کا غِنٰی ہے، جبکہ غنائے نفس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے، دوسروں کے مال و دولت پر نگاہ رکھنا اور اس کا حریص رہنا، اس سے بندے کی حق گوئی بھی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی، اگر کسی انسان کے دنیا کے وسائل و اسباب نہ ہوں، لیکن وہ نفس کے غِنٰی سے مالا مال ہو تو اس کے لیے پرلطف اور لذتوں سے بھری ہوئی زندگی کے لیےیہی نعمت کافی ہے، باتونی بن جانا اور ہر بندے کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتے رہنا، اس سے لوگوں کے ہاں وقار تو کم ہو سکتا ہے، کبھی بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اگر اس پاک فیلڈ سے متعلقہ لوگ عبادات کی روٹین مرتّب کرنے کے بعد معاشرے سے متعلقہ چند قوانین کا پاس و لحاظ کریں، امامت و خطابت و تدریس کو تبلیغِ اسلام کا ذریعہ سمجھ کر پر خلوص انداز میں ان عہدوں کے تقاضے پورے کریں اور اپنے نصیب پر راضی ہو جائیں تو چند ایامکے اندر اندر ہی دلی سکون نصیب ہو گا اور حمیت و غیرت والی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2276، 5749، ومسلم: 2201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11086»