کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6137
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا وَفِي لَفْظٍ سُحْتًا مَا أَعْطَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6137
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الطبراني: 12586، وأخرجه مختصرا ابو يعلي: 2362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3078م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3078»
حدیث نمبر: 6138
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ كَمْ خَرَاجُكَ قَالَ صَاعَانِ فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو
ایک صاع دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2163 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1136»
حدیث نمبر: 6139
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5696، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11988»
حدیث نمبر: 6140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سینگی لگانے والے کو اجرت دینا درست ہے، لیکن مکروہ ہے، جن روایات میں اس کی کمائی کو خبیث کہا گیا ہے، اس سے مراد حرام نہیں ہے، مکروہ ہے، کیونکہیہ اچھا پیشہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2280، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12230»