کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوَفِّهِ أَجْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: روزِ قیامت تین آدمیوں کا مقابل میں ہوں گا اور جس کا مقابل میں ہوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا، لیکن پھر اسے توڑ ڈالا، (۲) وہ آدمی جو آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھاگیا، اور(۳) وہ آدمی جس نے مزدور رکھا اور اس سے کام پورالیا، مگر اس کی مزدوری پوری طرح ادانہ کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6135
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2227، 2270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8677»
حدیث نمبر: 6136
وَعَنْهُ أَيْضًا فِي حَدِيثٍ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میں میری امت کے لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بات یہ ہے کہ جب عامل کام پورا کرتا ہے تو اس کو پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6136
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام القرشي متفق علي ضعفه، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ أخرجه البزار: 963، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3602 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7904»