کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی¤پر محمول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6128
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو وَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ بٹائی پرزمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے۔ عمروبن دینار نے کہا: جب میں نے طاؤوس کے سامنے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین اپنے بھائی کوبطور عطیہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر زمین کی مقررہ پیداوار لے۔
حدیث نمبر: 6129
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ قَالَ سُفْيَانُ حَظُّ الْأَرْضِ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عرب کی چند بستیوں کی طرف بھیجا اور حکم دیاکہ میں وہاں سے زمین کاتہائی اور چوتھائی لے کر آؤں۔
حدیث نمبر: 6130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا وَعَطَاءً وَمُجَاهِدًا وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ قَالَ شُعْبَةُ كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا جوہمارے لئے فائدہ مندتھا، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہی ہمارے لئے اس کام سے بہتر ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اسے ویسے ہی چھوڑ دے، یا کسی بھائی کو کاشت کے لیے بطورِ عطیہ دے دے۔ عبد الملک کہتے ہیں: میں نے طاؤوس سے اس حدیث کا ذکر کیا،ان کا خیال تھا کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سب سے زیاد ہ علم رکھنے والے ہیں اور وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، اگر وہ اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: عبد الملک ان تین راویوں کو جمع کرتے تھے: طاؤوس، عطاء اور مجاہد، اور مجاہد سے بیان کرنے والے راوی کے بارے میں شعبہ کا خیال تھا کہ وہ صاحب ِ حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 6131
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدِ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ قَالَ فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَهُ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، میں اس حدیث ِ مبارکہ کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل بات یہ تھی کہ جب دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر جھگڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتمہاری یہ صورت حال ہے تو پھر زمینیں کرائے پر ہی نہ دیاکر و۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف یہ الفاظ سنے تھے کہ زمینوں کو کرائے پر نہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں مذکورہ احادیث کے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ مصلحتاً زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ زمین کو کرائے پر دینے سے متعلقہ پچھلے چند ابواب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ درج ذیل ہے: بہتر یہ ہے کہ زمین کرائے پر نہ دی جائے، بلکہ کسی مسلمان بھائی کو بغیر کسی معاوضہ کے کاشت کرنے کے لیے دے دی جائے۔ درہم و دیناریعنی نقدی کے عوض زمین کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آج کل پاکستان کے نہری علاقے میں ہوتا ہے۔ زمین کو اس کی کل پیداوار کے بعض معین حصے پر کرائے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ کیا تھا، آج کل یہ طریقہ پاکستان کے بارانی علاقوں میں اپنایا جاتا ہے۔ زمین کو اس طرح کرائے پر دینا منع ہے کہ اس کے بعض حصے کو مالک کے لیے اور بعض حصے کو مُزَارِع کے لیے خاص کر دیا جائے، کیونکہ اس میں فریقین میں سے ایک کے نقصان کا امکان ہے۔