کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے¤اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6122
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قَالَ قُلْتُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتیوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں حنظلہ نے کہا: اگر سونے اور چاندی کے عوض میں دے تو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، صرف زمین کو اس کی پیداوار کے بعض حصے کے عوض میں دینے سے منع کیا گیا ہے، سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6123
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ قُلْتُ وَمَا الْحَقْلُ قَالَ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ كَرِهَ الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ وَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِالْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ يَأْخُذُهَا بِالدَّرَاهِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے حکم سے دریافت کیا کہ محاقلہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: زمین کو تہائی یاچوتھائی حصہ پر کاشت کرنا، جب ابراہیم نے یہ بات سنی تو وہ تہائی اور چوتھائی حصے پر زمین کاشت کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوری زمین درہموں کے عوض لی جائے۔
حدیث نمبر: 6124
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الْحَقْلُ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر زمین دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کے عوض کوئی متعین چیز لے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حقل ہے اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب کی پہلی حدیث میں اسی متن کو مرفوع بیان کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 6125
عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاذِيَانَاتِ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِرَاءَ الْمَزَارِعِ بِهَذَا وَنَهَى عَنْهَا وَقَالَ رَافِعٌ وَلَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بڑی نہروں کے پاس والی فصل، چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی فصل اور کچھ چارے یا بھوسے کے عوض کھیتوں کو کرائے پر دیتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقے سے کھیتوں کو کرائے پر دینے کو ناپسند کیا اور اس سے منع فرما دیا، پھر سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: البتہ درہم و دینار کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6126
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الزَّرْعِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ كَيْفَ كِرَاؤُهَا أَبِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ فَقَالَ رَافِعٌ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا نے مجھے بیان کیا کہ وہ لوگ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے آس پاس اگنے والی فصل اور کچھ کھیتی، جس کو مالک مستثنی کرتا تھا، کے عوض زمین کو کرائے پر دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ میں حنظلہ نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا:تو پھر زمین کو کس طرح کرائے پر دیا جائے؟ کیا درہم و دینار کے عوض؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کھیتی کو درہم و دینار کے عوض کرائے پر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 6127
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُكْرُونَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ الْبِئْرِ فَجَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ وَقَالَ اكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھیتیوں کے مالکان عہد ِ نبوی میں اپنی کھیتیاں اس قطعۂ زمین کے عوض کرائے پردیتے تھے، جہاں پانی والی نالیاں بہتی تھیں یا کنویں کے ارد گرد جہاں پانی خود بخود چڑھ آتاتھا، لیکن جب وہ بعض معاملات میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس طرح زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے اورچاندی کے عوض زمین کرائے پردیاکرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مالک اپنی زمین کی اجرت میں زمین کے بعض حصے اپنے لیے خاص کر لیتا تھا، جس سے بسا اوقات مالک کو زیادہ فائدہ ہو جاتا تھا اور مُزَارِع کو نقصان اور کبھی اس کے برعکس۔ دوسرایہ مسئلہ ثابت ہوا کہ زمین ٹھیکے پر دینا درست ہے، مثلا آٹھ ہزار روپے کے عوض ایک سال کے لیے ایک ایکڑ زمین کرائے پر دینا۔