کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں¤خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
حدیث نمبر: 6102
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحَيَّ يُخْبِرُونَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً وَقَالَ مَرَّةً أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ اثْنَتَيْنِ فَبَاعَ وَاحِدَةً بِدِينَارٍ وَأَتَاهُ بِالْأُخْرَى فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا جانور یا ایک بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا، ہوا یوں کہ میں نے اس کی دو بکریاں خرید لیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار کے عوض فروخت کر دیا اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے میری تجارت میں برکت کی دعا کی۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو ان کو اس میں نفع ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر وکیل سے متعلقہ تمام امور کی وضاحت کر دی جائے تو ٹھیک، وگرنہ جو معاملہ اس کو سونپا جائے گا، اس کو اس معاملے کا اور اس سے متعلقہ امور کا اختیار ہو گا۔
حدیث نمبر: 6103
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ وَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کر دیا، ایک دن میرے و الد سیدنایزید رضی اللہ عنہ صدقہ کرنے کے لیے دینار لے کر نکلے اور مسجد میں ایک بندے کے پاس رکھ دیئے (تاکہ وہ کسی کو دے دے)، لیکن میں خود اس سے لے کر گھر آ گیا، میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں نے ان کو ساتھ لیا اور یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تو نے جو نیت کی، وہ ہو گئی، اور اے معن! تو نے جس نیت سے لیے ہیں، وہ تیرے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنایزید رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اس کا وکیل اس رقم کو محتاجوں میں تقسیم کر دے گا، چونکہ اس کا اپنا بیٹا محتاجوں میں شامل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے کو نافذ کر دیا۔