حدیث نمبر: 6097
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ فَرُدُّوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابومنہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا بر اء بن عاز ب رضی اللہ عنہما دونوں آپس میں شراکت کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک دفعہ انہوں نے چاندی خریدی، اس کی کچھ مقدار نقدتھی اور کچھ ادھار، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو سودانقد ونقد ہواہے، اس کو برقرار رکھا جائے اور جو ادھار پر ہوا ہے، اس کو واپس کر دیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اس نمبر (۵۹۷۵) میں گزر چکی ہے، اس باب میں اس کو بیان کرنے سے مقصود مشارکت کو ثابت کرنا ہے کہ دو چار بندے ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر کاروبار کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6098
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ النَّاقَةَ عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يَغْنَمُ حَتَّى إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقِدْحَ وَفِي لَفْظٍ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَطِيرُ لَهُ الْقِدْحُ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّيشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتا تھا، ہم اس طرح کرتے کہ ایک آدمی اپنے حصے کی غنیمت کے نصف حصے پر اونٹنی خرید لیتا تھا، اب بسا اوقات ایسے ہوتا کہ مال غنیمت میں سے کسی کو تیر ملتا اور کسی کو پھل اور پر۔
وضاحت:
فوائد: … ایسا سودا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں جہالت اور دھوکہ ہے۔ اس باب میں مضاربت سے متعلقہ کوئی حدیث نہیں ہے، مضاربت کی تعریفیہ ہے: ایسی تجارت جس میں سرمایہ ایک شخص کا اور محنت کسی دوسرے شخص کی ہو، بیچ میں شرط یہ ہو کہ منافع دونوں میں طے شدہ شرائط کے مطابق تقسیم کیا جائے گااور تجارت کے خسارے میں نقصان صرف مال کے مالک کا ہو گا اور عامل کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ مضاربت کے جواز پر امت کا اجماع ہے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم کسی کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تویہ شرط لگاتے کہ وہ ہمارے مال سے حیوان کی تجارت نہیں کرے گا اور وہ ہمارا مال نہ سمندر میں لے کر جائے گا اور نہ سیلابی مقامات پر، اگر اس نے ایسے کیا تو وہ خود ضامن اور ذمہ دار ہو گا۔ (بیہقی: ۶/ ۱۱۱، دارقطنی: ۳/ ۶۳)