کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
حدیث نمبر: 6092
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوا وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام ایسا باکمال مذہب ہے کہ یہ نہ صرف آخرت کو سنوارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، جو اس کا مقصودِ اصلی ہے، بلکہ دنیا میں بھی تنگ دستی و تنگ ذہنی سے آزاد ہو کر فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کے لیے قوانین وضع کرتا ہے۔ جہاںشریعت نے وسیع گھر کو امن و سعادت کی علامت قرار دیا ہے، وہاں کھلے راستوں اور کھلی گلیوں کی وجہ سے بھی کئی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس مسئلہ میں لوگ اتفاقِ رائے سے کوئی حد متعین کر لیں تو ٹھیک وگرنہ شریعت کا حکم نافذ ہو گا، جس کے مطابق کسی گزرگاہ کی چوڑائی سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ رکھی جائے گی۔ گلیوں کا دس گیارہ فٹ وسیع ہونا دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے۔
حدیث نمبر: 6093
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْمِیْتَائ‘‘ باب ’’اَتٰییَأْتِیْ‘‘ سے مفعال کا وزن ہے اور میم زائد ہے، ’’اَلطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ‘‘ سے مراد بڑا راستہ ہے، جہاں سے کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے، بعض نے اس کے معانی کھلے راستے یا آباد راستے کے بھی کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 6094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میں راستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6095
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يَتْرُكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعَ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى الْمِيتَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔