کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: معلوم یا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی¤کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
حدیث نمبر: 6085
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لِأَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذَا قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کے دو آدمی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میراث کا مقدمہ لے کر آئے، جبکہ اس میراث کے آثار مٹ چکے تھے اور ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں تھی، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی ایک بشر ہوں، تم لوگ میرے پاس اپنے فیصلے میرے پاس لے آتے ہو، ممکن ہے کہ کوئی آدمی اپنی دلیل کے نشیب و فراز سے واقف ہونے کی وجہ سے اس کو اچھے انداز میں پیش کرے اور پھر میں (ان ہی امور کی بنا پر) تم میں فیصلہ کر دو (تو سن لو کہ) میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ کر دوں تو وہ نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا، وہ قیامت والے دن اس کے ذریعے اپنی گردن میں آگ بھڑکاتے ہوئے آئے گا۔ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا: میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جبکہ تم یہ کہہ رہے ہو تو پھر جا کر اس کو اس طرح تقسیم کر لو کہ حق کو تلاش کرو اور پھر قرعہ اندازی کر لو اور ہر آدمی اپنے بھائی کو معاف بھی کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … مدّعِی، مدّعٰی علیہ اور ان کے گواہوں میں سے ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، بالخصوص اول الذکر دو افراد کو، لیکن دوسرے آدمی کے حق کی اہمیت کا علم ہو جائے تو پھر انصاف پر برقرار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6086
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ يَعْنِي مَظْلَمَةً لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال اور عزت میں کوئی زیادتی کی ہو تو اس کے پاس آکر اس کو معاف کر وا لے، قبل اس کے کہ اس کا مؤاخذہ کیاجائے، وگرنہ جس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، اس دن درہم و دینار نہیں چلے گا، اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس سے نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی، وگرنہ مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔