کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
حدیث نمبر: 6073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ وَفِي لَفْظٍ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2402، ومسلم 1559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7124»
حدیث نمبر: 6074
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ وَلَمْ يَكُنِ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10807»
حدیث نمبر: 6075
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6075
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواهد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20370»