کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 6071
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ ظُلْمٌ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ وَكِيعٌ عِرْضَهُ شَكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ حَبْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔ امام وکیع نے کہا: بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مرا اس کو قید کرنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غنی آدمی کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دست آدمی اس حکم سے مستثنی ہو گا اور اس کو مزید مہلت دی جائے گییا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔
خلیفہ اور حکمران کو حق حاصل ہے کہ کسی شبہ یا جرم کی بنا پر آدمی کو قید کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV حَبَسَ رَجُلًا فِیْ تُھْمَۃٍ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی تہمت کی وجہ سے ایک آدمی کو قید کر لیا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۳۰، ترمذی: ۱۴۱۷، نسائی: ۴۸۷۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6071
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 3628، وابن ماجه: 2427، والنسائي: 7/ 316، وعلقه البخاري في الاستقراض باب لصاحب الحق مقال ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18110»
حدیث نمبر: 6072
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مفلس کا مال اس کے ذمہ قرضوں سے کم ہو گا تو پھر بھی اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس مال کو اپنے قرض خواہوں کے سپرد کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1556 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11337»