حدیث نمبر: 6068
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَّا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَهَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ فَهَلْ تَرَكَ لَهَا مِنْ قَضَاءٍ قَالُوا لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَهَا مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَصَلُّوا أَنْتُمْ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَضَيْتُ عَنْهُ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ إِنْ قَضَيْتَ عَنْهُ بِالْوَفَاءِ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَذَهَبَ أَبُو قَتَادَةَ فَقَضَى عَنْهُ فَقَالَ وَفَّيْتَ مَا عَلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم انصارمیں سے ایک آدمی فوت ہوا ،ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ درخوست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نمازجنازہ پڑھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیایہ مقروض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ اٹھارہ درہم کا مقروض ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ان کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیں کہ اگر میں اس کا قرض ادا کردوں توپھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پورا ادا کردو تو میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ گئے اور اس کا قرض ادا کر کے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ابوقتادہ! مکمل ادا کردیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اداکردیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میت کو منگوایا اور اس کی نمازجنازہ ادا کی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۰۲۶) یہ بات گزر چکی ہے کہ جونہی سیدنا ابو قتادہ نے قرض کی ذمہ داری اٹھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میت کا قرض مجھ پر ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھا دی، لیکن اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ گئے اور قرض ادا کر کے آٹے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ادائیگی مکمل ہو گئی ہے، جب انھوں نے مثبت جواب دیا تو تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
ان دو روایات میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ قرض خواہ کی طرف گئے اور میت کی طرف سے ضمانت اٹھائی، اگرچہ بالفعل اس کا قرضہ ادا نہیں کیا، اس ضمانت کی وجہ سے میت بریٔ الذمہ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھا دی، اگلے باب کی حدیث سے اس تاویل و تطبیق کی تائید ہوتی ہے۔
ان دو روایات میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ قرض خواہ کی طرف گئے اور میت کی طرف سے ضمانت اٹھائی، اگرچہ بالفعل اس کا قرضہ ادا نہیں کیا، اس ضمانت کی وجہ سے میت بریٔ الذمہ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھا دی، اگلے باب کی حدیث سے اس تاویل و تطبیق کی تائید ہوتی ہے۔