کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 6066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتَّبِعْ وَفِي لَفْظٍ وَمَنْ أُحِيلَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالد ار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تواس کو چاہیے کہ وہ یہ بات قبول کرے۔ ایک روایت میں ہے: جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تو وہ یہ حوالہ قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 6067
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتَّبِعْهُ وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے حوالہ کی مثال ملاحظہ کریں، زاہد نے عثمان سے ایک ہزار روپے کا قرض لینا ہے اور عثمان نے اتنی ہی رقم ابراہیم سے لینی ہے، اب عثمان زاہد سے کہتا ہے کہ تو نے مجھ سے جو ہزار روپیہ لینا ہے، وہ ابراہیم سے لے لینا، جبکہ ابراہیم مالدار بھی ہے، ایسی صورت میں زاہد کو چاہیے کہ وہ عثمان کی بات تسلیم کر لے اور اس کو قرض لینےیا دینے سے بری کر دے۔
حوالہ کی تعریف: … مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔
ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔
حوالہ کی تعریف: … مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔
ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔