کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6064
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گروی رکھی ہوئی سواری پر اس پر ہونے والے خرچ کے عوض میں سواری کی جائی گے اور اسی طرح دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا، اور اس کا خرچ دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر ہو گا۔
حدیث نمبر: 6065
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جانور گروی رکھا جا ئے گا تو اس کا چارہ گروی لینے والے کے ذمہ ہو گا اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر اس کا خرچ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … گروی رکھنے والے کو رَاھِن اور جس کے پاس گروی رکھی جائے، اس کو مُرْتَھِن کہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے: اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے: اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔