کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6041
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ فِيمَ أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ وَفِيمَ ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ فَلَمْ آكُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَيِّعْ وَلَكِنْ أَتَى عَلَى يَدَيَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقَ وَإِمَّا وَضِيعَةٌ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَ عَبْدِي أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعَهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مقروض آدمی کو روزِ قیامت بلا کر اپنے سامنے کھڑاکرکے کہیں گے: اے آدم کے بیٹے! یہ قرض کیوں لیا تھا؟ تو نے کس لیے لوگوں کے حقوق ضائع کئے تھے؟ وہ آدمی کہے گا: اے میرے پروردگار! تجھے معلوم ہے میں نے یہ قرض کھانے پینے، پہننے اور فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں لیاتھا، بلکہ اپنے مال کے جل جانے یا چوری ہو جانے یا تجارت میں گھاٹا پڑنے کی وجہ سے لیا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذاآج میں اس کی طرف سے اس کا قرض پورا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کچھ منگوا کر اس آدمی کے ترازوکے پلڑے میں رکھے گے، جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہو جائیں گی، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل کردے گا۔
حدیث نمبر: 6042
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 6043
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِهِ فَأَنَا وَلِيُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس انسان نے قرضہ لیا اور پھر اس کو ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔
حدیث نمبر: 6044
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔
حدیث نمبر: 6045
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَدَانَتْ دَيْنًا فَقِيلَ لَهَا تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاؤُهُ قَالَتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْتَدِينُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالی یہ جانتا ہے کہ یہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی ایسی ضرورت کے لیے قرض لیتا ہے، جس کے بغیر اس کا کوئی چارۂ کار نہ ہو اور پھر اس کی ادائیگی کا سچا عزم رکھتا ہو اور پہلی فرصت میں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرنے والا ہے، لیکن اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کر سکا تو حسن ظن یہی ہے کہ اللہ تعالی قیامت والے دن اس کامؤاخذہ نہیں کرے گا اور اگر قرض خواہ نے اپنی زندگی میں اس کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے گا۔
حدیث نمبر: 6046
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا، وہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہو گا اور جس نے قرض چھوڑا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسو ل کے ذمے ہو گا۔
حدیث نمبر: 6047
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِأَنْفُسِهِمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِمَوَالِي عَصَبَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا أَوْ كَلًّا فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأَدْعَى لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہوں، اس لیے جوشخص مال چھوڑے وہ اس کے عزیز واقارب کے لیے ہوگااور جو کوئی چھو ٹے بچے یا (قر ض وغیرہ) کا بوجھ چھوڑ کر فوت ہو، اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤمنوں کی جانوں سے بھی قریب ہونا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کو ایک چیز کی طرف بلا رہے ہوں، جبکہ اس کے نفس کا تقاضا کوئی اور ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے خیال کو ترک کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مانے، کیونکہ اسی میںدائمی نجات ہو گی، جبکہ ایسی صورت میں نفس کے تقاضے کو پورا کرنے میں ہلاکت ہو گی۔
مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہونے والوں کے قرضے چکا تے اور ان کی اولاد کا سہارا بنتے تھے، اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے، جس حکمران کا داؤ چلتا ہے، وہ اپنی رعایا کے مال ودولت اور قومی خزانے کو لوٹنا چاہتا ہے۔
مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہونے والوں کے قرضے چکا تے اور ان کی اولاد کا سہارا بنتے تھے، اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے، جس حکمران کا داؤ چلتا ہے، وہ اپنی رعایا کے مال ودولت اور قومی خزانے کو لوٹنا چاہتا ہے۔