کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
حدیث نمبر: 6036
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم یہ آیت پڑھتے ہو میت کی طرف سے کی گئی وصیت اور قرضے کے بعد (ترکہ تقسیم کرو) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کو پورا کرنے سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ عینی بھائی وارث بنیں گے، نہ کہ علاتی بھائی، بندے کا عینی بھائی وارث بنتا ہے، نہ کہ علاتی بھائی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے، بلکہ حافظ ابن کثیر نے کہا: علمائے سلف و خلف کا اجماع ہے کہ قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔ عینی اور علاتی بھائیوں میں قوی القرابہ اول الذکر ہیں، اس لیے جس مسئلہ میں بھائیوں کییہ دو قسمیں جمع ہو جائیں تو عینی بھائی علاتیوں کو محجوب کر دیں گے۔