حدیث نمبر: 6030
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ أَهَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ وَفِي لَفْظٍ إِنَّهُ مَحْبُوسٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ قَالَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنَ لَهُ قَضَوْا عَنْهُ حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی فلا ں کا کوئی آدمی یہاں موجو د ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، بالآخر ایک آدمی کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تجھے پہلی دو بار جواب دینے سے روکے رکھا، میں نے تیرے ساتھ بھلائی ہی کرنی تھی، بات یہ ہے کہ تمہارا فلاں آدمی اپنے قرضے کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس میت کے گھر والوں کو اور اس کے لیے غمزدہ ہونے والوں کو دیکھا کہ انھوں نے اس کا قرضہ اس طرح ادا کیا کہ کسی چیز کا مطالبہ کرنے والا کوئی شخص بھی باقی نہیں رہا تھا۔
حدیث نمبر: 6031
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ وَفِي لَفْظٍ حَتَّى تُوَدِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو کچھ لیتاہے، وہ ادائیگی تک اس کے ذمے ہی رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 6032
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی روح اس وقت تک معلق رہتی ہے، جب تک اس پرقر ض باقی رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 6033
عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاذْهَبْ فَاقْضِ عَنْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنْهُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرابھائی فوت ہو گیا اورتین سو دینا ر ترکہ چھوڑا ہے، اس نے چھوٹے چھوٹے بچے بھی چھوڑے ہیں، میں نے ارادہ کیا کہ یہ دینار ان پر خرچ کروں گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تیرا بھائی قرض کی وجہ سے روکا ہوا ہے، اس لیے جا اوراس کا قرض اداکر۔ پس میں گیااور اس کا سارا قرض اداکر کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے بھائی کاتمام قرض چکا دیا ہے، البتہ ایک عورت رہ گئی ہے، وہ دودیناروں کادعوی کرتی ہے، لیکن اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے بھی دے، کیونکہ وہ سچی ہے۔