کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6018
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدَّيْنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے آپ کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! کون سی چیز ہمیں خوف وہراس میں مبتلا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض۔
حدیث نمبر: 6019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امن کے بعد اپنے نفسوں کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض لے کر۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے نہ مانے، قرضدار آدمی کا امن تباہ ہو جاتا ہے، عجیب قسم کی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، قرضہ وصول کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وقت پر ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں توہین آمیز باتیں سننا پڑتی ہیں اور ایسی صورت میں آدمی اپنے قرض خواہ سے چھپنا شروع کر دیتا ہے، نفس کو بے عزت کلمات سننے کی عادت ہو جاتی ہے اور بسا اوقات تو بھری مجلس میں غیرت و حمیت کو کھونا پڑتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے معاشرے میں اس کی ساخت کو بری طرح نقصان پہنچتا ہے۔ ان ہی مصائب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف سے تعبیر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6020
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَعْدِلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو (تو وہ دیکھ لے کہ) وہاں دینار ودرہم تو نہیں ہوں گے، بلکہ نیکیوں اور بدیوں کا تبادلہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … حشر والے دن قرض خواہ، قرضدار کی نیکیاں لے کر یا اپنی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال کر راضی ہو گا، جبکہ اس مقام پر سب سے زیادہ ضرورت نیکیوں کی زیادتی اور برائیوںکی کمی کی ہو گی۔
حدیث نمبر: 6021
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُلَيْقِ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقَالَ وَمَا الْمَيْسَرَةُ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ وَلَا رَاغِيَةٌ فَرَجَعْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنَا خَيْرُ مَنْ يُبَايَعُ لِأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ أَوْ فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: میں کفر اورقرض سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قر ض، کفر کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 6022
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَانِ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ وَإِنَّ فُلَانًا جَاءَهُ بَزٌّ فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ قَالَ قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبِي أَيْ لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ أَرَاهُ قَالَ قَدْ كَذَبَ لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ قَالَ أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس بھیجا تاکہ وہ آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دے، پس میں اس کے پاس آیا اور کہا: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تیری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دو، لیکن اس نے (طعن کرتے ہوئے) کہا: آسانی کیا ہوتی ہے اور یہ کب ہوتی ہے؟ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بکری ہے نہ اونٹ۔ (میں یہ بات سن کر )واپس آ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے، میں سب سے بہتر لین دین کرنے والا ہوں، (لیکن یاد رکھو کہ) اگر کوئی آدمی مختلف ٹکڑوں سے بنا ہوا کپڑا پہن لے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنی امانت کی وجہ سے کوئی ایسی چیز حاصل کرے، جو اس کے پاس نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ بندے کو کم سے کم چیزوں پر گزارا کر لینا چاہیے، لیکن اپنی امانت کے سہارے قرض نہیں لینا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ بعد میں حالات ساتھ نہ دیں اور قرض کی ادائیگی لیٹ ہو جائے یا موت ہی موقع نہ دے، پہلی صورت میں صفت ِ امانت متأثر ہو گی اور دوسری صورت میں آخرت کا معاملہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
حدیث نمبر: 6023
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو عمانی یا قطری کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ دو کپڑے تو موٹے ہیں، جب آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے تو یہ وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں تاجر کے ہاں ایک قسم کے کپڑے آئے ہیں، اگر آپ اس کی طرف پیغام بھیج دیں کہ وہ آسانی تک دو کپڑے آپ کو فروخت کردے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں جانتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا چاہتا ہے، وہ میرے کپڑے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یعنی وہ اس کے عوض میں میرے درہم ادا نہیں کرے گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا وہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت کو ادا کرنے والا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ہمیںیہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات پر کیے گئے اعتراضات کا جواب کیسے دیتے تھے، اس معاملے میں انسان کو انتہائی فہیم اور حکیم ہونا چاہیے،یہ کوئی قانون وضابطہ نہیں ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں لڑائی کی جائے، یا اعتراض پر اعتراض کر دیا جائے، یا کسی قسم کی بے صبری کا مظاہرہ کیا جائے۔