حدیث نمبر: Q6003
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 6003
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فَقَالَا انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ وَيَقُولَانِ هَلْ كُنْتُمْ تُسْلِفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ قَالَ نَعَمْ كَمَا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُسْلِفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقُلْتُ عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ فَقَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقَالَا لِي انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْأَلْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ وَالزَّيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے بنو ہاشم محمد بن ابی مجالد کہتے ہیں: ابن شداد اور ابوبردہ نے مجھے بھیجا اور کہا: تو سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ عہد ِ نبوی میں گندم، جو اور منقی میں بیع سلف کیا کرتے تھے؟ انھوں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مال غنیمت حاصل کرتے اور پھر اس میں گندم، جو، کھجور اور منقی میں بیع سلف کرتے تھے۔ میں نے کہا:کیایہ بیع ان سے کرتے تھے، جن کے پاس کھیتی ہوتی تھی یا ان سے بھی کہ جن کے پاس کھیتی نہیں ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: اس چیز کے بارے میں ہم پوچھتے ہی نہیں تھے۔ (جب میں نے واپس آ کر ان کو تفصیل بتائی تو) انھوں نے کہا: اب سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جا اوران سے یہی مسئلہ دریافت کر کے آ۔ پس میں ان کے پاس گیا اور انھوں نے بھی سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ امام احمد کہتے ہیں کہ ابو معاویہ کی روایت میں تیل (یا زیتون کے تیل) کاذکر بھی ہے۔
حدیث نمبر: 6004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمَنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ فَقَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز بیع سلم کا پھلوں کے پکنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6005
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجَّجَ وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي لَيْسَ مَرْفُوعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: گندم اور عام جو اور چھلکے کے بغیر جو میں اس وقت تک بیع سلف جائزنہیں، جب تک کہ اس کادانہ خشک نہ ہوجائے ، انگوراور زیتون وغیرہ میں بھی یہ بیع جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ یہ چیزیں اچھی طرح پختہ نہ ہو جائیں اور نہ نقد سونے کی ادھار چاندی کے ساتھ اور نقد چاندی کی ادھار سونے کے ساتھ بیع جائز ہے۔ امام احمد نے کہا: یہ روایت مرفوع نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6006
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَفِ فِي حَبْلِ الْحَبَلَةِ رِبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمل کے حمل کا ادھار کے ساتھ سودا کرنا سود ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی حاملہ اونٹنی کے مالک کو قیمت ادا کرے اور کہے کہ میں اِس اونٹنی کے حمل کا حمل خرید رہا ہوں، یہ معاملہ اس اعتبار سے سود کے مشابہ ہے کہ یہ سود کی طرح حرام ہے، کیونکہ بائع ایسی چیز بیچ رہا ہے جو نہ تو اس کے پاس ہے اور نہ وہ اس کو سپرد کرنے پر قدرت رکھتاہے، پس اس سودے میں غرر اور دھوکہ ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا بیع سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حدیث کا بیع سلم/ سلف کے ساتھ اس طرح تعلق ہوسکتا ہے کہ
اس میں وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر وقت طے نہ کیا جائے تو بیع سلم جائز نہیں اور حبل الحبلۃ میں وقت مجہول ہوتا ہے، اسی طرح اگر حبل الحبلۃ کی بیع ہوگی تو عین بھی مجہول ہوگا۔ اس لیے سلف میں حبل الحبلۃ تک وقت مقرر کرنا ٹھیک نہیں اور عین مجہول ہونے کی وجہ سے حبل الحبلۃ کی بیع بھی جائز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اس حدیث ِ مبارکہ کا بیع سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حدیث کا بیع سلم/ سلف کے ساتھ اس طرح تعلق ہوسکتا ہے کہ
اس میں وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر وقت طے نہ کیا جائے تو بیع سلم جائز نہیں اور حبل الحبلۃ میں وقت مجہول ہوتا ہے، اسی طرح اگر حبل الحبلۃ کی بیع ہوگی تو عین بھی مجہول ہوگا۔ اس لیے سلف میں حبل الحبلۃ تک وقت مقرر کرنا ٹھیک نہیں اور عین مجہول ہونے کی وجہ سے حبل الحبلۃ کی بیع بھی جائز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)