کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5981
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ قَالَ يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5982
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ قَالَ يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5983
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادتییا کمی کی صورت میں کوئی سود نہیں ہوتا، لیکن اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کیا جائے گا، جیسا امام نووی نے شرح مسلم میں کہا اور امام خطابی نے (اعلام الحدیث: ۲/ ۱۰۶۷) میں کہا: اہل علم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ یہ صرف حدیث کا آخری حصہ سن سکے ہیں، پہلا حصہ اِن سے رہ گیا تھا، اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے بدلے جو کییا گندم کے بدلے کھجور کییا سونے کے بدلے چاندی کی تفاضل کے ساتھ بیعکرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا الرِّبَا فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) … ’’سود تو صرف ادھار میں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس قسم کے مسئلے میں ادھار میں سود پایا جائے گا، یعنی جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو ان میں تفاضل تو جائز ہے، بشرطیکہ وہ نقد و نقد ہوں، ہاں جب ان میں ادھار گھس آیا تو سود لازم آئے گا۔ یہ توجیہ اور معنی اس بنا پر کیا گیا ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مفہوم کے بر خلاف امت کا اجماع ہو چکا ہے۔ اگر امام خطابی کی تاویل نہ کی جائے اور کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں صرف ربا النسیئہ کو حرام قرار دیا ہے تو دوسری خاص نصوص کی روشنی میں ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا جائے گا۔
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ’’سود تو صرف ادھار میں ہے‘‘ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ’’سود تو صرف ادھار میں ہے‘‘ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 5984
عَنْ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَازَنِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحِلُّهُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الرِّبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ أَوِ النَّظِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہمانے کہا: سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
حدیث نمبر: 5985
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ مَا تَقُولُ أَشَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو صالح کہتے ہیں: جب میں نے ابو سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر ہونا چاہیے تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ملا اور ان سے کہا: تم جو کچھ کہتے ہو، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، آیا تم نے یہ چیز قرآن مجید میں پائی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو میں نے کتاب اللہ میں پایا ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو، مجھے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبرد ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود تو ادھار میں ہے۔
حدیث نمبر: 5986
عَنْ ذَكْوَانَ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْ لَهُ فِي الصَّرْفِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ نَقْرَأْ قَالَ بِكُلٍّ لَا أَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ أَوْ قَالَ فِي النَّسِيئَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
حدیث نمبر: 5987
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرَّبْعِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔