حدیث نمبر: 5963
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالْوَرَقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہوں، اسی طرح گندم، گندم کے عوض بیچنا سو د ہے، الا یہ کہ وہ نقد ونقد ہو، اور جو، جو کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو، اسی طرح کھجور، کھجور کے عوض فروخت کرنا سود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو۔
حدیث نمبر: 5964
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ كَيْلًا بِكَيْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَ أَلْوَانُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ناپ تول کر اور برابر برابر فروخت کیے جائیں گے، جو زیادہ دے گا یا جو زیادتی کا مطالبہ کرے گا، وہ سود لے گا، ہاں جب اقسام مختلف ہو جائیں (تو پھر زیادہ دینےیا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 5965
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِي آخِرِهِ الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی ،گندم کے بدلے گندم … پھراوپر والی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: زائد لینے والا اور دینے والا، دونوں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 5966
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْوَرَقُ بِالْوَرَقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیع کے وقت سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی اور چاندی کے سکے کے عوض چاندی کا سکہ نقدو نقد اور برابر برابر ہونا چاہیے، جس نے زیادہ دیایا طلب کیا، اس نے سود لیا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’وَرَق‘‘ وہ چاندی ہے جوسکہ میں ڈھال لی جائے، ’’فِضّۃ‘‘ بھی چاندی کو ہی کہتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اس کا اطلاق سکہ اور غیر سکہ دونوں پر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5967
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ اشْتَرَى سِقَايَةً مِنْ فِضَّةٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِهَا أَوْ أَكْثَرَ قَالَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے چاندی کاایک پیالہ خریدا، اس کی قیمت میں دی گئی چاندی اس سے کم یا زیادہ تھی، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کے سودے سے منع فرمایا ہے، ما سوائے اس کے جو برابر برابر ہو۔
حدیث نمبر: 5968
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ فِيهِ الْأَوْصَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اشعث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی ملنے تک اس کو بیچ دیتے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کے بدلے سونے کی، چاندی کے بدلے چاندی کی، کھجور کے بدلے کھجور کی، گندم کے بدلے گندم کی، جو کے بدلے جو کی اور نمک کے بدلے نمک کی بیع کرنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ وہ برابر برابر ہوں، جس نے زیادہ دیایا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سودی معاملہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: جب یہ جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو خرید و فروخت کر لو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔
حدیث نمبر: 5969
عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرَقَ بِالْوَرَقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَمَّ مَقَالَتُهُ حَتَّى دَخَلَ بِهِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي عَنْكَ حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ بَصَرَ عَيْنَيَّ وَسَمَعَ أُذُنَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرَقَ بِالْوَرَقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر، ایک چیز کو دوسری کے مقابلے میں نہ بڑھاؤ اور نہ ادھار کو نقد کے ساتھ فروخت کرو، کیونکہ ایسی صورت میں مجھے سود کا اندیشہ ہے، اتنے میں ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس قسم کی ایک حدیث ِ نبوی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کر دی، لیکن ابھی تک اس نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور میں بھی اُن کے ساتھ تھا، وہ داخل ہوئے اور کہا: اس شخص کا خیال ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کیا واقعتا آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میری آنکھوں نے دیکھا تھا اور میرے کانوں نے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور ایک چیز کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے بدلے بیچو۔
حدیث نمبر: 5970
عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ حَتَّى خَصَّ الْمِلْحَ قَالَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا لِعُبَادَةَ فَقَالَ عُبَادَةُ لَا أُبَالِي أَنْ أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ فِيهَا مُعَاوِيَةُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا اور چاندی کے عوض چاندی برابر برابر ہیں۔ یہاں تک نمک کا بھی خصوصی ذکر کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں، (یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ جس مقام پر میں ہوں، وہاں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہوں، میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں سونے، چاندی، کھجور، گندم، جو اور نمک کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 5971
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالْذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَدًا بِيَدٍ قَالَ هَذَا سَمِعْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونا خریدنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ وہ برابربرابر ہوں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض جس طرح چاہیں سودا کر لیں۔ یہ سن کر سیدنا ثابت بن عبد اللہ نے کہا: کیا پھر نقد و نقد کی قید ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح سنا تھا۔
حدیث نمبر: 5972
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ قَالَ لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ فروخت کرو ایک دینار دودینارکے عوض، اور نہ ہی ایک درہم دودرہم کے عوض اور نہ ہی ایک صاع، دوصاع کے عوض اس طرح مجھے ڈرہے کہ تم سود میں مبتلاہوجائو گے۔ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگے اے اللہ کے رسول!اس بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟کہ آدمی ایک گھوڑا زیادہ گھوڑوں کے عوض اور اونٹنی اونٹ کے عوض فروخت کرے۔ آپ نے فرمایا :جب نقد ونقد ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن اس حدیث میں سونے اور چاندی اور جانداروں کی خریدو فروخت سے متعلقہ جو دو مسئلے بیان کیے گئے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
حدیث نمبر: 5973
عَنْ شَرَحْبِيلَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى قَالَ شَرَحْبِيلُ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ فَأَدْخَلَنِيَ اللَّهُ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو ہر یرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا برابر برابر ہو اور چاندی کے بدلے میں چاندی برابر برابر ہو، بالکل ایک دوسرے کے برابر برابر ہوں، جس نے زیادہ دیایا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود والا معاملہ کیا۔ شر حبیل کہتے ہیں: اگر میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتو اللہ تعالی مجھے آگ میں داخل کر دے۔